سیلابِ رحمت — Page 408
وہ کرتے ہیں احساں پہ احساں ہمیشہ، وراثت میں پائی ہے شان کریمی خدا کی ادائیں ہیں مردِ خدا میں، وگرنہ میں کیا میری ہستی ہی کیا ہے غنیمت ہے نا چیز ذروں کی خاطر ، شغف میرے سورج کا شعر و ادب میں ہے سایہ فگن آسماں معرفت کا، زمیں پہ بہت روپ آیا ہوا ہے میں لاؤں کہاں سے وہ الفاظ جن میں، ادا کر سکوں شکریہ جیسا حق ہے بہے جارہے ہیں تشکر کے آنسو، مرا پگلا دل آج پگھلا ہوا ہے بڑی عاجزی سے میں سر کو جھکائے ، خدا سے یہی اک دعا مانگتی ہوں میرے آقا کی ساری دعائیں ہوں پوری ، علاوہ ازیں چاہئے اور کیا ہے 404 (الفضل انٹر نیشنل 14 اپریل 2003ء)