سیلابِ رحمت — Page 394
درد۔رحمت نہیں کیا گیا۔حضرت مصلح موعود اس سے بہت الرجک تھے۔لیکن اب یہ عرف عام میں مستعمل ہو چکا ہے۔اس لئے اس کے اوپر کوئی گرائمیرین دھونس ڈالنی مناسب نہیں۔زبان دانی کی دھونس لفظوں پر ضرور چلتی ہے لیکن جب کوئی لفظ غلط العام ہو جائے تو پھر اس کے سامنے ادب کی ساری لگا میں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ ت مصلح موعود کافی عرصہ لفظ 'ضایا کے خلاف احتجاج فرماتے رہے ہیں مگر پھر بھی ضایا راہ پاہی گیا ہے۔آپ اس نا پسندیدگی کا اظہار اکثر ایسے پڑھنے والوں پر فرماتے تھے جو آپ کے کلام میں ” ضایا میرا پیغام۔۔“ پڑھ دیا کرتے تھے اور ایسے اعلیٰ ادبی کلام میں واقعی ضائع کو ضائع ہی پڑھنا چاہئے اور رضا یا نہیں کہنا چاہئے۔۔۔باقی جو عام درست الفاظ ہیں ان میں اگر کوئی غلط پڑھے تو بہت تکلیف دیتا ہے مثلاً نشان کو 66 نشان پڑھنا۔۔( مکتوب 5 اپریل 1995 ، صفحہ 3) وو ہے جیسے :۔۔ضمناً یاد آیا کہ شعروں میں تو درد لفظ کا مذکر استعمال ہی ملتا در دمنت کش دوا نہ ہوا دل میں اک درد اُٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے لیکن بول چال میں بسا اوقات درد ہورہی ہے، سننے میں آتا ہے۔390