سیلابِ رحمت — Page 393
مہک / لفظ مہک کے متعلق آپ کی بات درست ہے۔یہ مہک اور مہک دونوں طرح آجاتا ہے۔مگر مجھے تو مہک سے زیادہ لگاؤ ہے اور ہمارے گھروں میں بھی مہک ہی پڑھا جاتا تھا۔لیکن اہل زبان ح ، ہ، DO سے پہلے زیر آجائے تو اس میں امالہ بھی کرتے ہیں جیسے رہنا، کہنا ،سہنا وغیرہ۔اسی طرح میں بھی مہک کو مہک کی بجائے امالہ کر کے مہک پڑھتا ہوں لیکن بعض شعراء جب ضرورت سے زیادہ اپنی اردو جتاتے ہیں تو وہ مچل کے وزن پر مہک پڑھتے ہیں۔“ ( مکتوب 4 دسمبر 1993ء) چاروں اور بجی شہنائی اور پر زبر نہیں ہے۔یہ لفظ اور ہے اور نہیں۔اور کا مطلب ہوتا ہے مزید جب کہ اور کا مطلب ہے سمت۔جس طرح چور کو چور پڑھنا جائز نہیں اسی طرح اور کو اور پڑھنا جائز نہیں۔“ ضائع ( مکتوب 5 دسمبر 1993 ء صفحہ 8) لفظ ضائع کا ایک تلفظ اگر چہ ضایا، بھی چل پڑا ہے مگر جب ادبی کلام پڑھا جائے تو پھر اس کو ضا یا پڑھنا یا لکھنا غلط ہے اور اس کو پسند 389