سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 368 of 418

سیلابِ رحمت — Page 368

رحمت پس ہر چند کہ اس مصرع میں لفظ ہجر پڑھنا عشق پڑھنے کی نسبت زبان پر ہلکا ہے۔مضمون کی مناسبت سے عشق ہی موزوں ہے۔پس یہ مصرع یوں ہی رہے گا: آنکھ اپنی ہی ترے عشق میں ٹپکاتی ہے ( مکتوب 16-1-93 صفحہ 8) " کاش اُتر آئیں یہ اُڑتے ہوئے سیمیں لحات " کا متبادل آپ نے یہ تجویز کیا ہے۔کاش رک جائیں یہ اڑتے ہوئے سیمیں لمحات یہ تو بڑا خطرناک مشورہ ہے۔کیونکہ اڑتے ہوئے رکیں گے تو مریں گے گر کر۔میرا جو تصور ہے وہ تو یہ ہے کہ جس طرح پرندے اترتے ہیں اسی طرح یہ روحانی لمحات نور کے پرندوں کی طرح اتر آئیں۔آپ نے دو مضامین کو دو مصرعوں میں Repeat کیا ہے یعنی رک جائے اور ٹھہر جائے۔جب کہ میں نے پہلے مصرع میں اڑتے ہوئے بلحاظ پرندوں کی طرح اترنے کا مضمون باندھا ہے۔پرواز میں رک کر دھڑام سے گرنے کی بات نہیں کی۔میرے تصور پر میرا زیادہ حق ہے۔براہ کرم اس کے پر نہ باندھیں۔اس بیچارے کو تسلی سے مکتوب 15 مئی 1993 ء صفحہ 6) اڑنے دیں۔“ نظم نمبر 7 برق تپاں ہے خندہ کہ خرمن اداس ہے“ 364