سیلابِ رحمت — Page 369
سیلاب رحمت معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ نظم پہلی اشاعت سے نقل کی ہے۔میں نے تو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو ان کے یہ نظم بھجوانے کے بعد یہ ہدایت کی تھی کہ برق تپاں ہے خندہ۔۔۔مصرع کی فوری اصلاح بھجوا دیں اور غالباً وہ الفضل میں چھپ بھی گئی ہوگی۔لیکن اس کے باوجود آپ کو سہو کتابت والی نظم ہی مل سکی بہر حال اس کی دو صورتیں میرے سامنے آتی ہیں: (1) برق تپاں خندہ زن۔خرمن اداس ہے مگر اس میں یہ ستم ہے کہ وزن کی تال کے لحاظ سے خندہ زن تک کے مضمون کو پہلے نصف مصرع میں ہی سما جانا چاہئے تھا۔کیونکہ اس نظم کا ہر مصرع دوحصوں میں بٹا ہوا ہے۔گویا برق تپاں ہے خندہ پر ایک ضرب ختم ہوتی ہے اور کہ خرمن اداس ہے پر دوسری۔مگر خندہ زن کر دیا جائے تو زن کا قدم اپنے نصف مصرع کی حدود میں رہنے کی بجائے دوسرے نامحرم نصف پر جا پڑتا ہے۔اسی خیال سے میں نے اسے یوں کر دیا تھا: برق تپاں نہال۔کہ خرمن اداس ہے غالباً یہی بہتر رہے گا۔خنداں اس لئے جائز نہیں کہ یہاں خندہ صرف زبر کا متحمل ہے الف کا متحمل نہیں۔365 ( مكتوب 16۔1۔93 صفحہ 18 )