سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 367 of 418

سیلابِ رحمت — Page 367

اب رحمت متلاطم عرفان کا قلزم صلی اللہ علیہ وسلم » اس طرح مصرع کا پہلا نصف دوسرے نصف کے ساتھ نسبت تو صیفی یا نسبت بدل اختیار کر لیتا ہے۔نظم نمبر 4 نظم آج کی رات میں ایک شعر ہے: ( مکتوب 16 جنوری 1993 ء صفحہ 15) آنکھ اپنی ہی ترے ہجر میں ٹپکاتی ہے وہ لہو جس کا کوئی مول نہیں، آج کی رات اس کے پہلے مصرع کے متعلق حضور فرماتے ہیں: اس کے متعلق تجویز ہے کہ اسے یوں بدل دیا جائے: چشم عاشق ہی ترے ہجر میں ٹپکاتی ہے۔مجوزہ مصرع دیکھنے میں تو بہت چست لگتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ آنکھ اپنی ہی ترے ہجر میں ٹپکاتی ہے۔میں جو بات کہنی چاہتا ہوں وہ چشم عاشق میں آہی نہیں سکتی۔میں تو طعنہ آمیز دشمن کے مقابلہ پر اپنی ہی آنکھ کی محبت کو نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔چشم عاشق نے تو اس مضمون کا کچھ رہنے ہی نہیں دیا جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔دوسرے میں نے عمداً ہجر کو چھوڑ کر عشق اختیار کیا تھا کیونکہ بحث یہ نہیں کہ ہم آنحضور سلام کے وصل سے محروم ہیں کہ نہیں۔بحث یہ ہے کہ ہمارا دل آپ کے عشق سے خالی ہے یا لبالب بھرا ہوا ہے۔363