سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 324 of 418

سیلابِ رحمت — Page 324

سیلاب رحمت مولا کریم کے خاص فضل سے رشتہ طے ہو گیا اور خاکسار نے رخصتانہ کی اطلاع دے کر دعا کے لئے لکھا۔سچی بات یہ ہے کہ میرا دل بہت ڈرا ہوا تھا اور میں اُداس بھی تھی۔شادی پر جو گیت اور نظمیں پڑھی جاتی ہیں، سب کے بول کانوں میں گونجتے رہتے۔لو جاؤ تم کو سایہ رحمت نصیب ہو بڑھتی ہوئی خدا کی عنایت نصیب ہو دل کسی طور نہیں بہل رہا تھا۔ایسے میں پیارے حضور انور کا مکتوب تسکین کا سامان بن کر آیا۔آپ نے ہماری خوشی کو دو گنا کر دیا اور ہر مرحلے پر آپ کی دعائیں شامل حال رہیں۔اپنائیت کے انداز نے حمد وشکر میں لطف بھر دیا۔پیارے آقا نے آخر میں چند الفاظ دست مبارک سے بھی تحریر فرمائے تھے : " آپ کا خط ملا۔عزیزہ امتہ المصور کی شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔آپ نے اس کے رخصتانہ کے وقت کا جو نقشہ خط میں کھینچا ہے خصوصاً آپا سلیمہ کا کردار پھر میاں کے جذبات ، یہ ساری باتیں دل پر گہرا اثر کرنے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ بچی کو خوشیوں سے معمور زندگی عطا فرمائے اور آپ کے بچوں کی جنت آپ کی آنکھوں کو تراوت بخشتی رہے۔میرا خیال تھا کہ بچی کے لئے وہاں تحفہ بھجواؤں مگر جلسہ کی وجہ سے تحفہ بھجوانے میں تاخیر ہوگئی جس کا افسوس تھا۔اب آپ نے بتایا ہے کہ وہ یہاں سے ہو کر جائے گی تو الحمد للہ اب انشاء اللہ ملاقات پر خود تحفہ دوں گا۔مگر خدا کرے اس وقت یہاں سے گزرے جب میں بھی یہاں 322