سیلابِ رحمت — Page 311
آپ کی روزوں والی بات سمجھ گیا ہوں ( لہجے میں بے حد شگفتگی تھی ) میں نسیم سیقی صاحب کو لکھ دوں گا کہ آپ کا خط چھاپ دیں۔آپ بھی انہیں لکھ دیں کہ میں نے اجازت دی ہے۔“ میرے بعد کمی کی بات ہوئی پھر آپا سلیمہ صاحبہ نے فون لیا تو آپ نے فرمایا: آج آپ نے میری اُن سے بات کرا دی جن سے میں خود بات کرنا چاہتا تھا۔“ روزوں والی بات کی کچھ وضاحت کر دوں۔ہوا یہ تھا کہ حضور پرنور نے ایک خط میں کراچی میں خواتین کے ساتھ محافل سوال جواب کا بڑے پیارے الفاظ میں ذکر فرمایا تھا۔چونکہ اس خط کا موضوع بالعموم ساری ممبرات لجنہ کے لئے خوش کن تھا۔اس لئے میں چاہتی تھی کہ یہ خط ” الفضل میں چھپوا دوں کیونکہ اُن دنوں حضور انور کے خطوط چھپ جایا کرتے تھے۔میں نے سیفی صاحب ایڈیٹر الفضل سے ذکر کیا تو آپ نے جواب دیا حضور نے اپنے خطوط چھاپنے منع فرما دئے ہیں۔میں نے حضور کو خط میں لکھا تھا کہ جب ہمیں اتنا اچھا خط آیا تو آپ نے خطوط چھاپنا منع فرما دیا ہے۔ٹھیک ہے ”غریباں روزے رکھے تے دن وڈے آئے۔حضور پر نور نے اس محاورے کا بہت لطف لیا۔نہ صرف داد دی بلکہ از خود نسیم سیفی صاحب کو ہمارا خط چھاپنے کا لکھ دیا جوصفحہ اول پر شائع ہوا۔ایک بات کی وضاحت کردوں کہ فون پر کی ہوئی بات من وعن یاد نہیں رہتی۔میری عادت ہے کہ اہم باتیں فوراً لکھ لیتی ہوں ورنہ بعد میں بھول جاتی ہیں یا پیغام رسانی کے پیغام کی طرح کچھ کا کچھ بن جاتی ہیں۔تاہم بات کرنے کے فوراً بعد لکھنے سے بھی لفظ اپنے ہی ہوتے ہیں جو یادداشت کا سہارا لے کر زیادہ سے زیادہ ٹھیک لکھنے کی سچی کوشش ہوتی ہے۔اور پیارے حضور 309