سیلابِ رحمت — Page 312
رحمت کی باتیں تو لوح دل پر نقش کا لحجر ہیں۔اس قدر خوشی ہوئی تھی کہ بیان سے باہر ہے۔میں نے حضور کو خط لکھا کہ فون پر مختصر بات ہوئی دل نہیں بھرا تھا زیادہ بات کرنا چاہتی تھی مگر جھجک تھی۔خط لکھا تھا مگر یہ وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ اس کے جواب میں حضور خود فون کر لیں گے۔اللہ تبارک تعالیٰ کی مہربانی سے 25 ستمبر 1991ء کا دن ایک یادگار دن بن گیا۔یہ بہت خوبصورت دن تھا۔بڑی بیٹی مصور شادی کے بعد پہلی دفعہ کینیڈا سے آئی تھی۔ہم اُس سے باتیں کئے جارہے تھے۔تصویریں دیکھ رہے تھے کسی کا بھی اُٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ناصر صاحب پہلی دفعہ Cordless فون لائے تھے۔میں نے پوچھا کب سیٹ کریں گے تو جواب دیا جب حضور کراچی تشریف لائیں گے تو گھر پر بلائیں گے۔پھر یہ فون لگاؤں گا۔یہ گھر کے بے تکلف ماحول کی عام سی بات تھی جو ایک رنگ میں پوری ہوگئی۔بچوں کے اصرار پر فون سیٹ کیا تو پہلا فون حضور کا آیا۔فون کی گھنٹی بجی چھوٹی بیٹی شافی نے فون لیا۔پھر مجھے بلایا کہ امی آپ کا فون ہے۔میں نے فون لیا تو ایک مانوس سی رس گھولتی آواز سنائی دی : الفضل، میں آپ کی نظمیں پڑھتا ہوں بہت اچھی ہوتی ہیں۔بہت لطف لیتا ہوں۔اچھا کہتی ہیں۔کہاں سے سوجھتی ہیں آپ کو اتنی اچھی باتیں۔کمال کر دیتی ہیں ایک مصرع کے بعد دوسرے مصرع میں مضمون اتنا اُٹھا دیتی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔“ فرمایا: جی آپ۔۔آپ۔۔آپ۔۔۔66 ”آپ لکھتی ہیں کہ جی بھر کے بات نہیں ہو سکی ، دیر تک بات 310