سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 310 of 418

سیلابِ رحمت — Page 310

رحمت زمانے میں جب ہجر و فراق کا درد ناک موسم تھا۔تسکین نظر کے لئے ایم ٹی اے بھی نہیں تھا، صرف خطوط رابطہ کا ذریعہ تھے۔ایسے میں فون پر بات نصیبوں کی بات تھی۔اللہ تبارک تعالیٰ کی اس نعمت کے تذکرے سے جہاں شکر وحمد مقصود ہے وہاں حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی شفقت بے پایاں کے ذکر سے خلافت کے احسانات کی تصویر کشی بھی مدعا ہے۔کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا 20 جولائی 1991ء کی بات ہے ہماری صدر صاحبہ آپا سلیمہ میر کی طبیعت خراب تھی۔خاکسار محترمہ محمودہ امتہ السمیع (کمی) کے ساتھ اُن کی مزاج پرسی کے لئے گئی۔ہماری وہاں موجودگی میں اُن کی بیٹی طیبہ کی حضور انور سے دوا پوچھنے کے لئے کال ملانے کی کوشش کامیاب ہوگئی۔ہم نے بھی سلام کہلایا۔فرمایا : ” بات کروا دیں۔اس نے پہلے مجھے فون دیا میں نے عرض کیا : ”السلام علیکم۔“ آپ نے فرمایا: وو وعلیکم السلام۔۔آپ امتہ الباری ہیں۔امتہ الباری ناصر، آپ کا بڑا دلچسپ خط ملا ہے۔میں ابھی آپ کا ہی خط پڑھ رہا تھا۔بہت لطف آیا ہے آپ نے مجھے لکھا ہے کہ میرے لفظ اور جملے اچھے ہوتے ہیں مجھے لگتا ہے آپ کے زیادہ اچھے ہیں۔بہت دلچسپ خط ہے۔“ بہت سے تعریفی جملے ارشاد فرمائے ) پھر فرمایا: آپ نے لکھا ہے جادوگر ہو، میں بھی کبھی کبھی ایسے ہی لکھتا ہوں۔بلکہ مجھے لگتا ہے سارا خط ہی میں نے لکھا ہے۔اب آپ آپا سلیمہ سے ملنے آئی ہیں۔ٹھیک ہے اچھا ہے آپ ان کا دل بہلا ئیں۔ان سے باتیں کریں۔ہاں وہ میں 308