سیلابِ رحمت — Page 302
-رحمت- تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کی۔وطن میں عائد پابندیوں یا ذاتی مجبوریوں میں جکڑے بے بسوں کیلئے دعا ہے کہ خدایا تو خود تسکین بن کر ان کے پہلو میں آجا۔ان سے لاڈ کر۔انہیں لوریاں دے۔ان کا دل بڑھا۔ان کی بلائیں دور کر۔انہیں بتا کہ ابھی صبر کے امتحان کے کتنے دن باقی ہیں۔وطن اور اہل وطن سے تہی محبت کے ساتھ واپسی کی راہوں کے مہیب مراحل کا شعور ہو تو بے بس آرزوئیں اندر ہی اندر درد کی لہریں پیدا کرتی ہیں۔یہ درد بڑا کھا جانے والا ہوتا ہے۔ایسے میں مشرق کی طرف سے آنے والی ہواؤں کے سند یسے ہی زندگی کا سامان بنتے ہیں۔وطن سے آنے والے کسی بھی مسافر کا ہاتھ پکڑ کسی سایہ دیوار میں بیٹھ کرفرمائش ہوتی ہے۔آبیٹھ مسافر پاس ذرا، مجھے قصہ اہل دردنا مجھے ان کا حال سناؤ جو پیار کی پیاس بجھانے سمندر پار نہیں۔آسکتے۔مجھے اس بے بسی سے اندازہ ہوا ہے کہ کس طرح ہر دور افتادہ اولیس پر لخت جگر سے بڑھ کر پیار آتا ہے۔اے مسافر ! تو جور و جفا کی نگری ، صبر و رضا کے دیس سے آیا ہے۔تجھے تو سب علم ہوگا کہ غیروں نے میرے پیاروں پر کیا کیا ستم ڈھایا ہے۔تو آنکھوں میں لکھی شکووں کی کہانی جانتا ہے۔تو میرے محبوبوں پر نازل ہونے والی بلاؤں سے واقف ہے۔مجھے تو کئی برس ہو گئے یہ حالات دیکھتے دیکھتے اندیشہ یہ ہے کہ کیا یہ ظلم وستم ہی میرے وطن کی پہچان ہوں گے؟ مجھے ان مظلوموں ، مجبوروں ،محروموں کا حال سناؤ۔جو راہ مولیٰ اسیر ہیں۔جن کی پیشانیوں کی روشنی سے وطن کی جیلوں میں اُجالے 300