سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 303 of 418

سیلابِ رحمت — Page 303

سیلاب رحمت ہیں۔میرے ہم وطنوں کی باتیں بھی عجیب ہیں خدا کو اس وقت پکارتے ہیں۔جب کوئی مشکل در پیش ہو ورنہ مساجد کے میناروں سے نفرت کی منادی ہوتی ہے۔بلبل کو وطن سے نکال دیا ہے۔کوے اور ناگ بے روح بے جان صدائیں دیتے ہیں۔صرف احمدی ہی نہیں وطن میں سب اہل وطن آزادی سے محروم ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جماعت کو ہمیشہ ہی وفا کے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔اُحد، مکہ، طائف، شعب ابو طالب ، میدان کربلا میں خدا کی راہ میں قربانیاں دی گئیں۔اللہ والوں پر شیطان پتھر برساتے ہیں۔کہیں دار پر لٹکاتے ہیں۔احمدیوں کو بھی آزمائشوں سے گزر کر وفا کے امتحان دینے پڑے جو واقعہ کا بل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید کے ساتھ پیش آیا۔ہاں پے در پے جیسے تسبیح کے دانے گرتے ہیں۔قربانیاں دی گئیں۔مردان ،سکھر ہسکرنڈ، پنوں عاقل، وارہ، لاڑکانہ، حیدر آباد ، نواب شاہ، کوئٹہ، اوکاڑہ، لاہور، گوجرانوالہ ، ٹوپی، خوشاب، ساہیوال فیصل آباد، سرگودھا میں جان کے نذرانے پیش کئے گئے۔معاہد سے کلمہ توحید مٹائے گئے۔ہر طرح کے ظلم آزمائے گئے۔مگر نصرت الہی سے ہر گام ترقی کی طرف اٹھا۔ہر واقعہ جو پاکستان کے احمدیوں کے ساتھ پیش آیا آپ کا دل بڑھا تا رہا۔یادوں کی یہ بارات آپ کے دردمند دل کو بے چین رکھتی۔عجب مستی ہے یاد یار مے بن کر برستی ہے سرائے دل میں ہر محبوب دل رندانہ آتا ہے وہی رونا ہے ہجر یار میں بس فرق اتنا ہے کبھی چھپ چھپ کے آتا تھا اب آزادانہ آتا ہے 301