سیلابِ رحمت — Page 301
سیلاب رحمت بگولوں کی خدا خاک اُڑا دے گا۔انہیں رسوائے عام کر دے گا۔تم خدا کے شیر ہو۔تمہارے سامنے ان جنگلی جانوروں کی حیثیت ہی کیا ہے۔بساط دنیا جہان نو کے حسین اور پائیدار نقشے ابھار رہی ہے۔سارا نظام بدل رہا ہے فتح و ظفر کی چابیاں مقدر نے تمہیں تھما دی ہیں۔تمہارے سر پر خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اور رحمت کا سائبان ہے۔دین حق کی شاہراہوں پر جرات و شجاعت سے آگے بڑھتے رہو۔جلسہ سالانہ یو کے 1987ء میں پڑھی جانے والی نظم کا آغاز دور دیسوں سے آنے والے قافلوں کی آمد پر خوشی کا اظہار تھا۔جو ایک غریب الوطن کیلئے پیار کے پھول اور اخلاص و وفا کی مشعلیں لے کر آئے تھے۔آپ سب کو دعائیں دیتے ہیں۔تم نے میری ترسی نگاہوں کی سیرابی کا سامان کیا۔تم پر فرشتے پھول نچھاور کریں۔ترقی کی راہیں کشادہ ہوں میری آرزوئیں دعائیں بن کر رنگ لائیں تم سے زندگی کا ہر غم دور ہو جائے۔تم نور کی شاہراہوں پر آگے بڑھو اور اس تیز رفتاری سے کہ سال کے فاصلے لمحوں میں طے ہوں۔تمہاری ترقی میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی۔اس خوشگوار استقبال کے ساتھ ان پرشکستگان کا بھی خیال آتا ہے جو پرواز نہ کر سکے اور دشمنوں کے طعن کا نشانہ بنے۔یہ روداد غم ایسی ہے جو دل کے پردے پر خون سے لکھی ہے۔دل میں ایک ایسا بھی قابل احترام گوشہ ہے جو اپنے ان دوستوں کے لئے وقف ہے۔ان کی یادیں ایک گھٹا کی طرح آتی ہیں۔ان کا ذکر آنسوؤں سے بھیگا ہوا ہوتا ہے۔خوب آہ و فغاں کا موسم بنتا ہے۔تصور کی آنکھ سے ان سب کو دیکھتا اور ان کیلئے دعائیں کرتا ہوں۔نظم کے آخر میں وطن میں پابہ زنجیر آزادیوں کا خیال آتا ہے۔آزادی ہے تو فقط خدا 299