سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 300 of 418

سیلابِ رحمت — Page 300

ب رحمت آپ نے جونوید فتح عطا فرمائی اس میں آزمائش صبر کی دو گھڑیاں بہت طویل ہوگئیں۔۔۔جسمانی بعد نے مہوری کے بہت دکھ دئے۔خلیفہ اور جماعت یک جان و یک قالب ہوتے ہیں۔پاکستان کے ایک ایک احمدی کا دکھ آپ کے درد میں اضافہ کر جاتا۔حضور حق میں فریاد میں عرش کے پائے ہلانے لگیں۔مولیٰ ! صبر و رضا کے اسلوب بہت سکھا دئے۔اب کرب و بلا کے دن لمبے نہ کر۔پیمان وفا نبھانے والے اپنی جان مال سب قربان کر رہے ہیں۔پاکستان میں پابند سلاسل محبوس صرف تیرا نام سینے پر سجانے کے گنہگار ہیں۔میں ان سے جدا ہوں مجھے کیوں آئے کہیں چین که: دل منتظر اس دن کا کہ ناچے انہیں پاکے کبھی دیار مشرق کے باسیوں کو غریب الوطن کی چاہتوں کے سلام کے ساتھ یہ پیغام آتا میرے شام و سحر کی کیفیت آپ کے صبح و شام پر منحصر ہے۔میرے مقدر کے زائچے میں تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں۔میرے جام میں جو مے ہے دراصل تمہارا خون جگر ہے۔میری ذات تم سے کوئی الگ نہیں ہے۔تم ہی میری کائنات ہو۔میری زیست پر تمہاری یادوں کا عنوان لگ چکا ہے۔اے میرے سانسوں میں بسنے والو! تم کبھی بھی مجھ سے جدا نہیں ہوئے۔یہ تعلق جو خدا نے باندھا ہے ہمیشہ قائم رہے گا میرے نغمے ، میری دعائیں ،سب تمہارے لئے ہیں تمہارے درد والم سے ہی میری عبادت میں سوز و گداز پیدا ہوتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ تمہیں مٹانے کے عزم لے کے اٹھنے والے خاک کے 298