سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 299 of 418

سیلابِ رحمت — Page 299

رحمت پیارے حضور نے حضرت موسی کی دعا کو نظم فرمایا، آخری بند پڑھئے اور کئی بار پڑھئے۔بے ٹھکانہ ہوں گھر نہیں اپنا سر پہ چھت ہے نہ بام و در اپنا گاؤں کی چمنیوں سے اٹھتا ہے گو دھواں، وہ مگر نہیں اپنا دل سے شعلہ سا نوا اٹھی مصر جانے کو جی مچلتا ہے اکیلا ہوں خوف کھاؤں گا پر دست و بازو کوئی عطا کردے لوٹ کر تب وطن کو جاؤں گا دل سے مضطرب دعا اٹھی مشرق کے باسیوں سے پیار پاکستان کے احمدیوں پر ہونے والے مظالم آپ کے آبگینہ دل پر ہتھوڑے برساتے۔1983ء کے جلسہ سالانہ میں آپ نے پیاری جماعت کو دو گھڑی صبر سے کام لے کر دعائیں کرنے کا ارشاد فر ما یا تھا۔آپ کو یقین تھا کہ نمرود یت کو اپنی آگ میں جل جانا ہے۔عصائے موسی باطل کی قوتوں کو ڈس لے گا۔شہیدان احمدیت کا خون رنگ لائے گا۔وہی تیغ دعا جو پہلے لیکھو پر چلی تھی آج کے لیکھو پر بھی چل جائے گی۔دیر ہوسکتی ہے اندھیر نہیں۔یہ فقیرانہ صدائیں شش جہت میں پھیلیں گی۔دعائے غلام مسیح الزمان سے عصر بیمار کو شفا ہوگی۔297