سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 298 of 418

سیلابِ رحمت — Page 298

سیلاب رحمت دجال، کیوں کہا جاتا ہے ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ اللہ اور رسول اللہ کے عاشق اگر کہیں ہیں تو بس ربوہ میں ہیں۔جو راتوں کو اُٹھ کر خدا کے حضور اس قدر روتے ہیں کہ لگتا ہے کہ جان ہی دے دیں گے۔اس ماحول کا تصور اس نور بار کیفیت کو محسوس کرنے والا ہی کر سکتا ہے۔دل کرتا ہے یہ سیمیں لمحات اسی طرح ہولے ہولے ربوہ پر نور کے گالوں کی طرح اُترتے رہیں۔اس پر بہار باغ سے جدا ہو کر نہ مالی کو چین آیا نہ باغ کو قرار نصیب ہوا۔طائر اڑ گیا، نشیمن اداس رہ گیا۔نشیمن سے اداسی کے پیغام جاتے تو آپ بے چین ہو جاتے : بس نامہ بر اب اتنا تو جی نہ دُکھا کہ آج پہلے ہی دل کی ایک اک دھڑکن اُداس ہے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بن باسیوں کی یاد میں صرف گھر اُداس ہیں۔بن باسیوں کے من کی اداسی مجھ سے زیادہ تو نہیں میری غم نصیب آنکھوں میں بسنے والو ! در دمہجوری سے تڑپنے والو !! ادھر بھی یہی حال ہے۔آنکھوں سے جو لگی ہے جھڑی، تھم نہیں رہی آکر ٹھہر گیا ہے جو ساون، اُداس ہے بس یاد دوست اور نہ کر فرش دل پہ رقص سن! کتنی تیرے پاؤں کی جھانجمن اداس ہے 296