سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 244 of 418

سیلابِ رحمت — Page 244

سیلاب رحمت قافیہ کے استعمال میں اچانک تنوع پیدا کرنے کی مثال بھی اسی چھوٹی سی غزل سے مل جاتی ہے مثلاً: جو سچ کہہ دے اُسے مختل نہ ٹھہرا دوسری غزل جو اس خط کے ساتھ آپ نے بھیجی ہے وہ بھی بہت اعلیٰ پائے کی ہے۔ان شعروں میں سے تین شعر ایسے ہیں جن کا پہلا مصرع پڑھتے ہوئے و ہم بھی نہیں آسکتا کہ دوسرا مصرع ایک عام سے مضمون کو اُٹھا کر کہاں سے کہاں لے جائے گا۔فقط اسی سے توقع ہے مہربانی کی دُکھن کلیجے کی سجدے میں سب بتائی اُسے نشیب عجز میں گرنا ہے رفعتوں کا حصول که سرکشی کبھی بندے کی خوش نہ آئی اُسے جو اُس کی یاد میں مچلے ہیں گوھر نایاب پسند آتی ہے اشکوں کی پارسائی اُسے تینوں شعروں میں یہ قدر مشترک دکھائی دیتی ہے کہ دوسرے مصرعے پہلے نازل ہوئے تو ان کی تنصیب کے لئے پہلے مصرعے بعد میں بنائے گئے۔اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو خدمت دین کی تو فیق بڑھائے اور پہلے سے بڑھ کر سلیقہ عطا کرے علم و عمل دونوں کو نئی جلا بخشے اور آپ کے اشکوں کی پارسائی اور دل کی عاجزی اُسے خوش آ جائے۔خدا حافظ۔( مكتوب : 1990-4-30) 242