سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 245 of 418

سیلابِ رحمت — Page 245

دعائیہ جملہ ملاحظہ فرمائیے: آپ کے اشکوں کی پارسائی اور دل کی عاجزی اُسے خوش آ جائے۔“ کس قدر حسین انداز ہے جو پیارے آقا پر بس ہے۔ہر دفعہ الفضل میں نظم چھپنے پر ضروری تو نہیں ہوتا تھا کہ حضور رحمہ اللہ کا مکتوب ملے مگر لطف اس قدر آتا تھا کہ ایک لذیذی آس لگ جاتی۔شاید حضور کی نظر پڑ جائے شاید کوئی خط آجائے۔بعض دفعہ تو یہاں تک سوچتی کہ نظم میں جان کے کوئی غلطی کر دوں اور پھر پیارے آقا مجھے تفصیل سے سمجھا ئیں۔پھر کسی دن اچانک خط آجاتا۔من میں جشن کا سا سماں ہو جاتا۔الفضل میں غزل چھپی : غلط ہے آسماں سوکھا پڑا ہے زمیں کی کوکھ بنجر ہو گئی ہے آپ نے تحریر فرمایا: آپ کا کلام بالعموم کسی نہ کسی پہلو سے جاذبیت رکھتا ہے لیکن بعض نظمیں بعض دوسری نظموں پر فوقیت لے جاتی ہیں۔ان میں سے ایک وہ ہے جو 18 جون 1990ء کے الفضل میں شائع ہوئی مطلع میں اگر چہ ایک ایسی سچائی بیان ہوئی ہے جو ہر صاحب نظر کو معلوم ہی ہوگی لیکن جس رنگ میں آپ نے ڈرامائی انداز میں اس مضمون کو پیش کیا ہے وہ غیر معمولی اثر کرنے والا ہے۔غلط ہے آسماں سوکھا پڑا ہے زمیں کی کوکھ بنجر ہو گئی ہے 243