سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 243 of 418

سیلابِ رحمت — Page 243

سیلاب رحمت صنعتی اعتبار سے اُن میں کیا کیا خوبیاں ہیں مجھے تو صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ زبان سبک رو ہوتی ہے اور مضمون دلنشین جیسے وہاں شاید کسی کا دل دُکھا تھا زمیں تپتی رہی بادل نہ ٹھہرا لاکھوں میں ایک شعر ہے۔لچک بھی ایسی ہے کہ صاحب دل کے بدلنے سے اس کا دوسرا مصرع بآسانی ایک دوسرے رنگ میں ڈھل سکتا ہے مثلاً میں ہوتا تو یوں کہتا کہ : وہاں شاید کسی کا دل دُکھا تھا فضا برسی اگر بادل نہ ٹھہرا پھر اس غزل کا یہ شعرے گرا تو کیسی پستی میں گرا ہے حجاب اترا تو پھر آنچل نہ ٹھہرا ایک ایسی احمدی شاعرہ کے منہ سے کیسا سجتا ہے جس نے قیامِ حجاب کی راہ میں سالہا سال جانکاہی کی ہو۔چہرہ اس شعر کا بتارہا ہے یہ نہ توکسی زاہد خشک کا کلام ہے نہ کسی بے عمل شاعر کا بلکہ ایک بار یک نظر صاحب تجربہ کے دل کی پکار ہے۔دوسرا مصرع تو لا جواب ہے۔حجاب اُترا تو پھر آنچل نہ ٹھہرا پھر اپنے اس شعر کو ہی پڑھ کر دیکھیں جس کا کاجل اشکوں نے دھو دیا ہے۔مجھے تو یاد نہیں کہ لفظ کا جل کا ایسا خوبصورت اور برمحل استعمال کبھی کہیں اور پڑھا ہو۔241