سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 231 of 418

سیلابِ رحمت — Page 231

بن گئے تھے ایک نظم ہو گئی: اگر خطبے نہ آتے تو یہ دن ہم کاٹتے کیسے اب مجھے تھوڑا حوصلہ ہو گیا تھا کہ پیارے آقا ہمت بڑھاتے ہیں۔یہ نظم آپ کو بھیج دی۔پیارے آقا نے از راہ شفقت تحریر فرمایا: آپ کا خط اور خطبات پر نظم موصول ہوئی۔آپ کے جذبات قابلِ احترام ہیں۔اللہ انہیں شرف قبولیت سے نوازے۔اللہ آپ کے علم کلام میں مزید برکت عطا فرمائے۔۔۔۔66 ( مكتوب : 85-12-17) حضور کے لطف و کرم کی بارشیں ، تشکر اور سرشاری عطا کرتیں۔کبھی حوصلہ افزائی براہ راست ملتی کبھی بالواسطہ۔میری سہیلی میری محسنہ رفیقہ کار محترمہ مسنز برکت ناصر صاحبہ کے نام ایک مکتوب (90-11-15 ) میں آپ نے دستِ مبارک سے تحریر فرمایا: عزیزہ باری کی ایک بہت اعلیٰ پائے کی غزل چھپی ہے۔دیکھو پر ہر شعرختم ہوتا ہے اور واقعی آدمی دیکھتا رہ جاتا ہے۔“ اس نظم کا ایک شعر تھا: بیٹیاں جان سے پیاری ہیں پہ رخصت کر کے بوجھ اُتر جاتا ہے ماں باپ کے سر سے دیکھو اسیرانِ راہِ مولا کی بے گناہی اور قید و بند کی مصیبتوں پر ہراحمدی کا دل دکھتا تھا۔خاص ر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی تکلیف دیکھ کر یہ دکھن دو چند ہو جاتی۔دعا کی تحریک ہوتی اور اکثر یہ دعا آنسوؤں سے بھیگے ہوئے الفاظ میں نظم ہو جاتی۔خاکسار کی دسمبر 1988ء کی کہی ہوئی نظم طور پ 229