سیلابِ رحمت — Page 232
ب رحمت الفضل 11 فروری 1989ء کے شمارے میں شائع ہوئی مطلع دیکھئے تا کہ حضور پر نور کی مشفقانہ داد کا زیادہ لطف آئے۔جہانِ عشق کی توقیر تم نے بڑھا دی ثار ایسی اسیری لاکھ آزادی پیارے آقا نے دستِ مبارک سے تحریر فرمایا: واجعل لا من لذلك سلطا نصراً انا فتحنا لك فتحا مبينا لبسم الله الرحمن الرحيم نحمده وَتُصَلِّ عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ حلیف اد جماعت احمدی 17۔1۔1989 عزیزه امته الباري اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته و ابھی الفضل 11 جنوری میں۔آپ کی تنظیم اسیران " راه مولد پڑھی تو ھے جو بدی غم کی اٹھی دل سے تھوڑی برازی باری نظم ہی بڑی پُر اثر ہے اور فصیح و بلیغ ہے نکر بعض اشعار ان بعض مصرعے تو شوخی تحریر کے فریادی بنے ہوئے ہیں۔میں نے سوچا کہ پہلے اس سے کہ میری آنکھیں خشک ہو جائیں میں آپ کو بتا دوں کہ یہ نظم پڑھ کر ایران راہ مولد کے ساتھ ساتھ میرے دل نے آپ کو بھی دعائیں دیں جزاكم الله من الجزاء في الدنيا د لآخرة د اسلم خان او کز اما یہ 230