سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 230 of 418

سیلابِ رحمت — Page 230

رحمت " آپ کی نظموں کو اللہ تعالیٰ نے ایک انفرادیت بخشی ہے۔اللہ یہ امتیاز ہمیشہ قائم رکھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے اشعار کو سچائی کا حسن عطا فرمایا ہے۔اللہ اس حسن کو ہمیشہ فروغ بخشتا ر ہے۔آپ کی بے تکلف ، سادہ ،خود ر و نظم عید کے چاند سنا‘ نے دل پر گہرا اثر کیا۔مگر ایک مصرع اگر ذرا سا تبدیل کر دیں تو میرے تلفظ کے مطابق زیادہ موزوں ہوگا۔صحت کی بجائے میری زبان پر تو صحت لفظ آتا ہے اس لیے صحت کیسی ہے بتا“ کو ” کیسی صحت ہے بتا“ میں تبدیل کر دیں۔اللہ آپ کو صحت و عافیت والی خوشیوں سے معمور خدمت دین سے مزین لمبی ، بامراد، باشمر زندگی عطا فرمائے۔ناصر صاحب کو محبت بھر اسلام۔بچوں کو پیار-خدا حافظ۔“ ( مكتوب 1985-10-30) خط میں جو دعائیں تحریر فرمائیں میرے من کی مرادیں بھی وہی ہیں۔پیارے آقا کے الفاظ اس قدر جامع ہیں کہ دعا کیلئے ہاتھ اُٹھیں تو ان سے بہتر لفظ نہیں سوجھتے۔اور پھر جب یہ بھی ذہن میں ہو کہ یہ الفاظ ایسی ہستی نے تحریر فرمائے ہیں جو درگہ الہی میں بلند مقام اور قبولیت کی سند رکھتی ہے تو دل حمد وشکر سے بھر جاتا ہے۔یہ دور مہجوری کے وہ دن تھے جو ہمہ وقت درد میں ڈوبے رہتے۔اللہ کریم نے محروم دلوں کی طمانیت کے لئے ایک صورت یہ نکالی کہ خطبات کے کیسٹس ملنے لگے۔کیسٹ حاصل کرنا سننا ، سنانا پھر خطبوں میں ارشادات کا دوسروں سے ذکر کرنا ہر طرف یہی موضوعات چل رہے تھے۔کیسٹ ، ہر دل کے درد کی دوا 228