سیلابِ رحمت — Page 199
رحمت حضور ربوہ میں تھے تو کیا سب احمدی اکثر و بیشتر آقا کی ملاقات اور دید سے آنکھیں ٹھنڈی کرتے تھے؟ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔حضور سے ملاقات نصیبوں سے ہی ہوتی تھی ان کی ذات بابرکات کے ساتھ وابستہ سر پر سائبان ہونے کا احساس ، دھوپ میں سائے کی ٹھنڈک کا لطف طفل شیر خوار کو ماں کی گود جیسی لذت، مشکلات میں اپنے لئے شب باش وجود کے دعا کیلئے اُٹھے ہاتھوں سے حوصلہ۔یہ سب کچھ تو ہمیں سمندر پار سے بھی مل رہا تھا۔پھر کس کمی کس ادھورے پن نے دونوں طرف ہجر و فراق کی بساط برابر پھیلا دی تھی۔یہ الہی محبت کے عجیب سلسلے ہیں۔جب ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد وفا کیا جاتا ہے تو مرشد سے قریب تر رہنے کا جنون پیدا ہوتا ہے۔ظاہری بعد بوجھل لگتا ہے۔یہی احساس تھا جس نے سب کو تڑپا دیا تھا۔خاص طور پر پاکستان کے عشاق آقا کے منہ کی بھوک میں بن جل مچھلی کی طرح بے چین ہو گئے تھے۔اظہار کا سلیقہ رکھنے والوں نے آنسو الفاظ میں ڈھال کر سب کے دلوں کی ترجمانی کی: اے شخص کہاں چلا گیا تو آ جا کہ ترس گئیں نگاہیں آقا ترے بغیر یہ گلشن اُداس ہے ماحول بھی اُداس ہے کہ من اُداس ہے دیار مغرب سے لوٹ کر کب یہاں پہ آؤ گے میرے آقا تڑپ رہے ہیں بغیر تیرے یہاں پہ تیرے غلام کہنا اے جان تمنا آبھی جا اب اور ہمیں نہ تڑپانا ہم ہار گئے اور مارگئی ہم کو یہ جدائی برسوں کی 197