سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 198 of 418

سیلابِ رحمت — Page 198

وہ خواب جو بیداری میں دیکھا تھا کراچی سے ایمریٹس Emirates کا جہاز فضا میں بلند ہوا۔اسے دوبئی کو چھو کر ہیتھر و اُتر نا تھا۔جہاز کے مسافروں کے اپنے اپنے مقاصد اور جذبات ہوں گے۔کہیں بچھڑنے کا غم اور کہیں ملنے کی خوشی۔میرا حال سب سے جدا تھا۔میں اپنوں سے دور زیادہ اپنوں کے پاس جارہی تھی۔ہوا کے دوش پر فاصلے سمٹ رہے تھے۔میں اس سرزمین کی طرف جارہی تھی جہاں پیارے خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۹۸۴ ء سے من ء سے متمکن تھے۔آسمانی سرکار نے خاکسار کے اس سفر کے لئے سامان مہیا کئے تھے۔ہماری بچی امتہ الصبور کے ہاں ولادت متوقع تھی۔بڑی بیٹی امتہ المصور پاکستان آ کر واپس کینیڈا براستہ لندن جانے والی تھی۔ساتھ اچھا بن گیا۔توفیق پرواز کیا ملی عالم ہی بدل گیا۔میں جو ہر ایک جانے والے سے درخواست کرتی تھی: میری آنکھوں سے اُنہیں دیکھنا جانے والو باقی سب کچھ جو مجھے کہنا ہے وہ جانتے ہیں اب کئی مشتاقان دید کے ایسے ہی بے تاب پیغامات لے کر محو سفر تھی۔سوچ رہی تھی کہ 196