سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 200 of 418

سیلابِ رحمت — Page 200

رحمت باہر تاحد نظر پھیلا ہوا بادلوں کا منجمد طوفان اور اُفق تا افق اس سے جھک کر گلے ملتا آسمان بہت حسین منظر تھا۔شوخ نارنجی، نیلے پیلے رنگ آپس میں گھل مل گئے تھے۔قدرت نے اپنا حسن خوب نکھار کر بکھیر دیا تھا۔ٹی وی سکرین پر پل پل کی خبریں آ رہی تھیں۔ہم کہاں ہیں، کس بلندی پر ہیں۔رفتار کیا ہے۔خوش شکل فضائی میزبان خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ کچھ پیش کر کے سلسلہ خیال تو ڑ دیتی اور کبھی نھا نواسہ وقاص کوئی مزیدار بات کرتا۔اُس کو اتنی دیر تک بیٹھنا مشکل لگ رہا تھا۔بڑا اچھا خیال سوجھا کہ ہم دونوں کھڑ کی کھول کر جہاز کے پر پر ایک دوڑ لگا کر دیکھیں کہ پہلے واپس جہاز میں کون آتا ہے۔افسوس اس کا یہ پروگرام کچھ فنی مشکلات کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔سکرین پر خانہ کعبہ کی سمت اور فاصلہ دکھایا تو دعا کی کہ سب شعائر اللہ حقیقی وارثوں کومل جائیں۔حضور پرنور کا شعر زبان پر آ گیا: اے کاش مجھ میں قوت پرواز ہو تو میں اُڑتا ہوا بڑھوں تیری جانب سوئے حرم سیرت نبوی کا بیان نثر میں ہو یا نظم میں تحریر و تقریر دونوں بے مثال عشق کی غمازی کرتے ہیں۔صرف زبانی نہیں عملی عشق نے حضرت محمد رسول اللہ صلی ا ستم کا جھنڈا اکناف عالم میں لہرانے کے لیے دعوت الی اللہ کا جوش و جنون پیدا کیا۔خدا کے شیر گر جتے ہوئے آگے بڑھے اور بساط دنیا پر جہان نو کے حسین اور پائیدار نقشے اُبھر نے لگے۔جہاز سے زیادہ تیز خیالات کی روکو جھٹکا سالگا۔انگریزی اور عربی میں اعلانات ہورہے تھے۔منزل قریب ہے۔جہاز نے مسلسل بادلوں پر پرواز کی تھی۔نیچے اُترنے کیلئے بادلوں سے راہ دینے کو کہا۔حجاب ہٹتے ہی ہیتھرو کی روشنیوں کا جھما کا سا ہوا۔198