سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 189 of 418

سیلابِ رحمت — Page 189

محتر مہ امة الحفیظ محمود بھٹی صاحبہ محترمہ امتہ الحفیظ محمود بھٹی صاحبہ کی ہمراہی میں طویل عرصہ خدمت دین کا موقع ملا۔بہت شفیق تھیں۔افسرانہ انداز کی بجائے خاکساری سے محبت پیار سے کام لیتیں۔ہمارا تعلق بہنوں کا سا تھا۔شعبہ تصنیف و اشاعت کے کاموں کی نوعیت دوسرے شعبوں سے مختلف تھی اس لئے ان کے تعاون ، رہنمائی اور سر پرستی کی زیادہ ضرورت رہتی۔محترمہ آپا سلیمہ میر صاحبہ کی سبک دوشی کے بعد قریباً 50 کتب کی اشاعت آپ کے عہد صدارت میں ہوئی۔اللہ تعالٰی کا بڑا احسان ہے کہ ان کی زندگی میں فارسی درثمین چھپ کر آ گئی۔سالہاسال کی کئی جہت سے محنت کا ثمر دیکھ کر خوش ہو ئیں اور اپنے انداز میں دعاؤں سے نوازتی رہیں۔محنت کی قدر دان تھیں۔بہت حوصلہ افزائی کرتیں۔کتب کی اشاعت کے مختلف مراحل میں بعض مشکل مقامات آ جاتے۔آپ معاملات کو سلجھانے میں بہت تحمل سے کام لیتیں۔میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا صبر اور تحمل تھا۔بعض دفعہ ان کا لمبا تمل جھنجلا ہٹ پیدا کرتا مگر بالآخران کا فیصلہ ہی درست ثابت ہوتا۔صبر اور اول وقت صبر کا مظاہرہ ان کے شوہر کی وفات کے موقع پر بھی نظر آیا۔بڑے وقار اور صبر سے بھاری صدمہ برداشت کیا۔تعزیت کرنے والوں کو صبر کی تلقین کرتی رہیں۔بہت معاملہ فہم تھیں۔خاص طور سے عائلی جھگڑوں کو سلجھانے میں دونوں طرف کی بات سن کر مناسب نصیحت کرتیں۔اسی طرح رشتے کرانے میں بھی ہر پہلو مد نظر رہتا۔مجھے ان کی اس خوبی کا بھی اعتراف کرنا ہے کہ پاکستان سے فون پر رابطہ رکھتیں۔187