سیلابِ رحمت — Page 188
سیلاب رحمت Encourage کیا۔آخری عمر میں اکثر ملک سے باہر جانا پڑتا تھا۔جماعت کا کام متاثر نہ ہو اس لئے خود ہی مرکز کو درخواست دے کر ایک دوسری صدر منظور کروالیں اور بڑی خوبصورتی سے ایک میٹنگ بلائی اور ان کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مسز بھٹی صاحبہ کو صدر کی کرسی پر بٹھا کر ان کی خدمات کے بارے میں دلنشین تقریر کی اور اطاعت کی تلقین کی اور بڑے وقار سے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئیں۔یہ کھتی ہیں کہ انتقال اقتدار ایسے بھی ہوتا ہے۔پس وہ لوگ جنہیں بعض دفعہ جماعتی خدمات سے ہٹایا جائے یا ان کی منظوری نہ دی جائے تو اس پر بڑے اعتراض شروع ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے یہ سبق ہے کہ اگر کام مل جائے تو الحمد للہ اور اگر نہیں ملتا تو تب بھی اللہ کا شکر ادا کریں اور کام کرنے کے ، جماعت کی خدمت کرنے کے اور دوسرے طریقے تلاش کریں۔لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ عہدہ ہی ملے تو کام ہوسکتا ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ سب کام معاملہ نہی اور راز داری سے کرنے والی تھیں۔دل کی بات کر کے کبھی یہ خدشہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ بات کہیں نکل جائے گی۔بڑی راز رکھنے والی تھیں۔امتہ الباری ناصر صاحب لکھتی ہیں کہ پتہ نہیں کیسے وہ سب کے راز اپنے سینے میں دفن رکھتی تھیں اور یہ بہت بڑی خصوصیت ہے جس کی کمی آج کل مردوں میں بھی ہے۔“ 186