سیلابِ رحمت — Page 176
ب رحمت کتب رکھنے اور نکالنے کے لئے زور آزمائی کرتی رہتیں۔مکرمہ بشری داؤ د صاحبہ کراچی کی مقبول ترین فعال کارکن تھیں۔اس کا ساتھ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت تھا جو بہت مختصر رہا۔مکرمہ امۃ الرشید ارسلہ صاحبہ بہت ساده، صاف گو اور محبت کرنے والی خاتون تھیں۔تین کتب مرتب کی تھیں۔مکرمہ امتہ الکریم مبارک صاحبہ نے طویل عرصہ سیلز سیکشن میں محنت سے کام کیا۔خاموش، بے نفس خدمت گزار تھیں۔لجنہ اماءاللہ کراچی بجاطور پر کرم شیخ محمد ادریس صاحب مرحوم کی شکر گزار ہے۔موصوف وائی آئی پریس کے مالک تھے۔ہمارے کام کے آغاز سے ہی ان کی رہنمائی ،مفید مخلصانہ مشورے اور دعا ئیں ہمارے ساتھ شامل ہو گئیں۔یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس میدان میں ہمارا تجربہ صفر تھا۔وہ نہ صرف ہمدردی سے کام کرتے بلکہ حوصلہ افزائی بھی کرتے۔کام ان کے سپر د کر کے معیار کے بارے میں بے فکر ہو جاتے۔مسودہ ضرور پڑھتے اور ایسی اصلاحات تجویز کرتے جو کتاب کے معیار کو بڑھا دیتیں۔خاص طور پر کلام طاہر مع فرهنگ، در ثمین مع فرہنگ اور کلام محمود مع فرہنگ کا کام خاص لگن سے کیا جن کی نمایاں خوبصورت طباعت کو خلیفہ وقت نے بھی سراہا۔موصوف ہمارے علمی کام کو حیرت سے دیکھتے اور کہتے یہ غیر معمولی کام ہے۔ایک تاریخ رقم ہورہی ہے۔ان کی بیگم مکرمہ ساجدہ اور میں صاحبہ پریس سے رابطے کے علاوہ بھی شعبے کے کئی کاموں میں ذوق وشوق سے معاونت کرتیں۔پھر ان کے بیٹے مکرم شیخ داؤ داحمد جو بجائے خود ماہر فن ہیں اور معیاری کام کا ذوق رکھتے ہیں، کتب کی خوب صورتی بڑھانے میں مشیر ہو گئے۔لجنہ کراچی 176