سیلابِ رحمت — Page 123
سیلاب رحمت اللہ تعالیٰ اور اُس کا پیارا خلیفہ سب جانتے ہیں اس لئے اس خیال سے کہ اسی میں بہتری ہوگی کوئی اپیل نہیں کی۔مگر شاید میری آنکھوں نے کچھ کہ دیا۔مجھے بتائے بغیر آپا سلیمہ صاحبہ نے حضور پر نور کو خط لکھ دیا۔کچھ ہی عرصے کے بعد پیارے حضور کا خط موصول ہوا: آپ کو در ثمین اردو مع فرہنگ کی اشاعت کی استثنائی صورت دو میں اجازت ہے۔66 میں کیوں کر گن سکوں تیری عنایات ترے فضلوں سے پر ہیں مرے دن رات 1998ء میں خاکسار کولندن جانے کی توفیق ملی۔دلی تمنا بر آئی اپنے ہاتھ سے درثمین کی ڈمی حضور کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت پائی۔اجازت ملنے پر اشاعت کے مراحل شروع ہوئے۔کئی دشوار گزار راہوں سے گزر کر جولائی 2003ء میں کتاب چھپ کر آئی تو پیارے حضور اس دنیا میں نہیں تھے۔سب سے پیارے نے اپنے اور ہمارے پیارے کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔ہمیں قدم قدم پر پل پل حضرت صاحب کی شفقتوں کی عادت ہوگئی تھی بہت بڑا دھکا لگا ایسا خلا جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔یہ سب رو داد جو میں لکھ رہی ہوں اس کا مقصد بھی خلیفہ وقت کی مہربانیوں کی وسعتوں کا ذکر کرنا ہے۔ساری کائنات میں ایک ملک ، ایک ملک میں ایک شہر، ایک شہر میں ایک تنظیم، ایک تنظیم کا ایک شعبہ۔۔۔ایک ذرہ ناچیز اور اس پر لطف و کرم کی بارش۔الحمد لله رب العلمين ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم 123