سیلابِ رحمت — Page 124
حصہ دوم خلافت خامسہ میں شعبہ اشاعت لجنہ کراچی کی اشاعتی خدمات اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جون 2003 ء میں انتہائی خوبصورت در ثمین زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔کتاب کے استقبال کے لئے ہم شعبہ اشاعت والے محترمہ آپا سلیمہ میر صاحبہ کے گھر جمع تھے۔کتاب دیکھ کر دل حمد و شکر اور آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔دراصل حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد نے بے قابو کیا ہوا تھا۔آپا میری کیفیت سمجھ رہی تھیں۔انتہائی گرم جوشی سے خاکسار کو لپٹا کر مبارکباد دی۔قیمتی خوشبو کا تحفہ دیا اور اس سے بھی قیمتی ایک نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوشی دی ہے۔اس کے شکرانے میں خود کو سنبھالو۔اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا، ہر حال میں اللہ کے آگے جھکو۔اتنے پیار اور مان سے کی ہوئی نصیحت سیدھی دل میں اتری۔مجھے محسوں اور ایک دم روشنی تیز ہوگئی ہے۔اللہ تعالی ہماری مہربان آپا کو سلامت رکھے۔ہم نے سب سے پہلے کتاب پر حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مبارک نام لکھا اور خدمت گزاروں کے لئے دعا کی درخواست کے ساتھ تحفہ بھیجا۔بفضل الہی حضور انور نے اس پیشکش کو پسند فرمایا اور خدمت گزاروں کو دعاؤں سے نوازا تحریر فرمایا: ور ثمین کا نیا نسخہ مل گیا ہے۔ماشاء اللہ آپ لوگوں نے اس پر خوب محنت کی ہے۔طباعت بھی عمدہ اور دیدہ زیب ہے۔جزاکم اللہ 124