سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 122 of 418

سیلابِ رحمت — Page 122

سیلاب رحمت ہے۔اس کے ساتھ آپ نے جو دعائیں دیں، ہمیں نہال کر گئیں۔تحریر بھی خوبصورت ہے: ” خدائے ذوالعرش ہم سب کو بے شمار حقائق و معارف سے لبریز اس آسمانی خزانہ کی عظمتوں کو پہچاننے کے لئے چشم بصیرت عطا فرمائے اور اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی توفیق بخشے آمین۔بلا شبہ تینوں میں سے ہر ایک درثمین حضرت مسیح موعود کی تمام کتب، مکتوبات، اشتہارات اور ملفوظات کا جامع خلاصہ بھی ہے اور زندہ ء جاوید اور حیرت انگیز علمی نشان بھی۔“ گلوسری کی ابتدائی محنت کی توفیق خاکسار کو ملی مگر خوب سے خوب تر کرنے میں مکرم نورالدین منیر صاحب، مکرم منصور احمد قریشی صاحب، مکرمہ نصری حمزه صاحبه، مکرمه محموده امته السمیع صاحبہ کا تعاون حاصل رہا۔فجز اھم اللہ تعالیٰ احسن الجزا۔مسلسل جدوجہد میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے من حيث لا يحتسب درواز - کھلتے رہے تیاری کا کام مکمل ہوا۔اشاعت کے منصوبے بن رہے تھے کہ ایک امتحان بھی آیا۔14-3-96 کا تحریر کردہ حضرت صاحب کا ارشاد موصول ہوا جس کا مضمون یوں تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب صرف مرکزی ادارے ہی شائع کر سکتے ہیں کسی ذیلی تنظیم یا فرد کو اجازت نہیں۔آپ سارا کام ناظر صاحب اشاعت ربوہ کے حوالے کر دیں۔اس ارشاد پر عمل بہت مشکل تھا تا ہم مولیٰ کریم نے حوصلہ دیا۔اطاعت میں برکت کی تربیت کام آئی اور ہمت کر کے سارا کام نظارت اشاعت کے حوالے کر دیا اور دوسری کتابوں میں مصروف ہو گئی۔آپا سلیمہ میر صاحبہ امریکہ سے واپس آئیں تو پوچھا درثمین کا کام کہاں تک پہنچا ہے۔میں نے صبر و ضبط کے ساتھ ساری روداد سنادی۔پوچھا تم نے اپیل کی۔میں نے جواب دیا نہیں۔122