سیلابِ رحمت — Page 104
سیلاب رحمت ہوا مفاہیم کا سمندر سموئے ایک ایک شعر، آپ کی نکتہ پروری ،فن پر گرفت اور عارفانہ نظر کی ماورائیت تائید غیبی ہے۔خیرات ہو مجھ کو بھی اک جلوہ عام اس کا پھر یوں ہو کہ ہو دل پر الہام کلام اس کا آپ کے کلام کی تہ تک انتر نا، وسعتوں کو پانا، اور رفعتوں تک نگاہ کر ناصرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ کوئی وہ تمام سفر آپ کے دل و نظر کے ساتھ طے کرے جو آپ نے اللہ پاک کی انگلی پکڑ کر کیا ہے۔اس لئے تحسین کا حق ادا کر نا حد امکان سے باہر ہے۔اس کے آگے قلم کے 66 قدم نہیں اُٹھتے۔“ کلام طاہر پر کام کا عرصہ چار پانچ سال پر محیط ہے۔پہلے کبھی اتنا بڑا علمی کام نہیں کیا تھا۔جہالت نے جنون سے مل کر وہ جراتیں اور حماقتیں کروائیں جن کی حضور پر نور کو اصلاح کرنی پڑی اور اس طرح وہ زر و جواہر ہاتھ لگے جو ایک مضمون الہام کلام اُس کا میں سجا دئے ہیں۔یہ مضمون کتابی صورت میں چھپ چکا ہے اور حضور کے ارشاد پر کلام طاہر میں شامل ہو گیا ہے، (اس کتاب میں بھی شامل ہے )۔مجھ میں تو شکر کرنے کا سلیقہ اور طاقت بھی نہیں۔ہر قدم پر احسانات کی بارش ہے۔بلا شک اس کی تیاری اور خاص طور پر پروف ریڈنگ میں بے شمار محنت کرنی پڑی مگر مزا بہت آیا۔کتاب کی تیاری میں مکرم عبید اللہ علیم صاحب اور مکرم سلیم شاہجہانپوری صاحب کے مفید مشورے ملتے رہے۔مکرمہ مسز ناصر صاحبہ نے کام کے ہر مرحلہ میں بہت ساتھ دیا۔گلوسری کی اصلاح حضور نے اپنی نگرانی میں لڑکیوں کی ایک ٹیم سے کروائی۔مکرم خالد اعوان صاحب نے 104