سفر آخرت — Page 77
77 جاتے ہو۔اُس چیز کو اکثر یاد کرتے رہا کرو جو غارت گر لذات ہے یعنی ”موت“۔اور فرمایا اگر ڈھور ڈنگروں اور چرندوں اور چو پاؤں کو بھی موت اور اس کے حال سے اتنی آگاہی ہوتی جتنی کہ تمہیں ہے تو کسی بھی انسان کو فربہ اور صحت مند جانور کا گوشت نصیب نہ ہوتا یعنی سب جانور اُسی کی یاد میں سوکھ کر کانٹا ہو جاتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص جام شہادت نوش کئے بغیر شہیدوں کے رتبہ کو پہنچ سکے گا؟ فرمایا ہاں وہ جو موت کو دن میں کم سے کم ہیں مرتبہ یاد کرتا ہو۔حضور کا گذر ایک قوم کے نزدیک سے ہوا۔ہر شخص ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوا جار ہا تھا اور قہقہے بلند کر رہا تھا آپ نے اُن لوگوں کو کہا کہ تم پر لازم ہے کہ اپنی مجلس میں ذکر ہی اُس بیٹے کا کرو جو تمام لذتوں کو مخض کر دیتی ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون سی شئے ہے؟ آپ نے فرمایا "موت" ہے جناب انس روایت کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ موت کو بہت یاد کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں صرف دنیا ترک کرنے کی تحریک نہیں کرتی بلکہ تمہارے گناہوں کا کفارہ بھی بن جاتی ہے اور فرمایا کہ لوگوں کو پند و نصیحت کے سلسلہ میں یہی کافی ہے۔کہ اُنہیں موت کی یاد دلاتے رہیں۔صحابہ نے حضور کے سامنے ایک شخص کی بے حد تعریف کی۔آپ نے فرمایا یہ بتاو کہ اس کا دل موت کے بارے میں کیسا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ موت کا ذکر کرتے ہوئے ہم نے اُسے کبھی نہیں دیکھا۔فرمایا تو پھر وہ ایسا نہیں جیسا کہ تم بتا رہے ہو۔۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں دس آدمیوں کے ہمراہ رسول اللہ علی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔انصار میں سے ایک نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ بزرگ ترین اور کریم ترین شخص کون ہے؟ فرمایا کہ دنیاوی شرف اور کرامت آخرت تو انہیں لوگوں کا حصہ ہے جو موت کو بہت یاد کرتے ہیں اور اُس جہان کے لئے زاد راہ جمع کرنے