سفر آخرت

by Other Authors

Page 78 of 84

سفر آخرت — Page 78

78 میں حریص و بے قرار ہیں۔ایک عورت نے حضرت عائشہ سے اپنے دل کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میں بے حد سخت دل واقع ہوئی ہوں۔اس کا کیا علاج کروں۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرتی رہا کرو۔اُس عورت نے اس پر عمل کیا تو سختی دل جاتی رہی۔جب دوبارہ حاضر خدمت ہوئی تو انمول مشورے کا شکر یہ ادا کیا۔ربیع خظیم نے گھر کے اندر ایک قبر کھود رکھی تھی اور دن میں کئی کئی مرتبہ اس میں لیٹا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس سے موت کی یاد ہر دم تازہ رہتی ہے۔جو تیری یاد سے اک لحظہ بھی رہوں غافل تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے رسول کریم نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا ” سچ بتاؤ کہ کیا موت تمہارے لئے لکھی ہوئی نہیں ہے؟ اور یہ جنازے جو لوگ اپنے کندھوں پر لئے جاتے ہیں کیا ان مسافروں کے نہیں جنہیں پھر کبھی واپس نہیں آنا ؟ کیا یہ لوگ ان اہل جنازہ کو خاک میں ملا کر ان کی میراث خود نہ کھانے لگیں گے؟ اور اس حقیقت سے غافل نہ ہو بیٹھیں گے کہ یہی راہ خود انہیں بھی پیش ہے۔“ ۹۸ طول امل کا شکار پس موت کو یاد نہ کرنا اکثر و بیشتر اس وجہ سے ہوتا ہے کہ لوگ طول امل کا شکار ہوتے ہیں یعنی لمبی لمبی امید میں باندھے رہتے ہیں اور یہ طول امل ہی دراصل تمام فسادوں کی جڑ ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ جس شخص نے اپنے دل میں یہ تصور کر رکھا ہو کہ اس کی عمر بہت طویل ہو گی اور مدت دراز تک اُسے موت نہ آئے گی اس سے دین کا کوئی کام سرانجام نہیں پاسکتا کیونکہ وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ ابھی بہت عرصہ پڑا ہے دینی کام جب چاہوں گا کرلوں گا۔ابھی تو راحت و آسائش اور عیش وعشرت کا وقت ہے۔اس کے برعکس جو شخص اپنی موت کو ہمیشہ نزدیک تصور کرتا ہے وہ ہر حالت میں