سفر آخرت — Page 76
76 کے ساتھ زندہ ہو گا بے چارہ! کوئی اندھا انا لولی لنگڑ امرسکتا ہے تو اس طرح زندہ ہو گا یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جسم کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا لیکن اس کے اندر جو روح ہے اسکو ایک جسم عطا کیا جائے گا حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ہمارے بدن سے ایک اور روح نکلے گی اور وہاں بھی روح اور بدن کا رشتہ اسی طرح قائم رہے گا۔مجلس عرفان حضرت خلیفہ انبیح الرابع تمبر ۲۰۰۰ ء ماہنامہ خالد ) خواجہ اظہر ظہور بٹ صاحب کا مضمون بشکریہ لاہور ۲۰ مئی ۲۰۰۰ء ۹۶۔موت کو یا د رکھنا جس شخص نے اس حقیقت کو ذہن نشین کر لیا کہ میرا انجام ہر حالت میں موت ہے اور خوب جان لیا کہ میری آخری قرارگاہ ہے۔منکر و نکیر میرے موکل ہیں اور میدان قیامت میں مجھے بہر حال حاضر ہونا ہے اور جنت و دوزخ میں سے ایک نہ ایک جگہ میرا ٹھکانہ ہو کر رہے گا۔اُس کیلئے کوئی اندیشہ موت کے اندیشے سے بڑھ کر اہم نہ ہوگا۔حضور اکرم کا ارشاد ہے کہ دانا وہی ہے جس نے اپنے نفس کو مغلوب اور مسخر کر لیا اور اُن اعمال میں مصروف ہو گیا جو موت کے بعد کام آئیں گے اور سیدھی کی بات ہے کہ جو شخص موت کو زیادہ یاد کرے گا وہ لامحالہ اُس کے زاد راہ کی تیاری میں زیادہ زور شور سے مشغول رہے گا۔یہی وہ شخص ہوتا ہے جو مرنے کے بعد جب قبر میں پہنچتا ہے تو اس کو باغات بہشت کے ایک باغ تر و تازہ کی مانند پاتا ہے۔جبکہ موت کو بھول جانے والا شخص جب قبر میں اترتا ہے تو زاد آخرت سے خالی ہاتھ ہونے کے باعث یوں ہوتا ہے گویا دوزخ کے مہیب غاروں میں سے کسی غار میں اُتر گیا ہو۔اسی لئے موت کو یا درکھنا بہت بڑے فضائل میں شمار کیا گیا ہے۔۹۷- غارت گر لذات چیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "اے لوگو! دنیا کی لذات میں سرشار ہوئے