سفر آخرت

by Other Authors

Page 34 of 84

سفر آخرت — Page 34

34 اس نماز میں عورتوں کی شمولیت کی کوئی نمایاں مثال ہمیں نہیں ملتی البتہ اگر اتفاقی طور پر کوئی عورت شامل نماز ہو جائے مثلاً جمعہ یا درس کے لئے عورتیں جمع ہیں اور جنازہ آگیا ہے یا گھر کے صحن میں نماز جنازہ ہو رہی ہے اور صفوں کے پیچھے دو چار عورتوں نے اپنی صف بنالی ہے اور نماز پڑھ لی ہے تو ایسی صورت جائز ہوگی۔اسی طرح نماز جنازہ غائب میں بصورت موجودگی (جیسے جمعہ کی نماز کے بعد جنازہ غائب یا حاضر ہو اور عورتوں کو اپنی الگ صف بنانے کے لئے مسجد سے باہر نہ جانا پڑے ) تو نماز جنازہ میں شامل ہو سکتی ہیں اس کا جواز مندرجہ ذیل روایات سے نکلتا ہے اور سابقہ علماء نے بھی ان سے ایسا ہی استدلال کیا ہے۔ترجمہ : یعنی حضرت عائشہ نے سعد بن ابی وقاص کی نماز جنازہ میت مسجد میں رکھوا کر پڑھی۔(مسلم کتاب الجنائز باب الصلوة على الجنازه في المسجد صفحه ۲ (۳۸۵)۔( مشکوۃ ابواب الجنائز صفحه ۱۴۵ حاشیه ۴) ترجمہ : یعنی آنحضور علی اللہ نے حضرت ابو طلحہ کے بیٹے عمیر کی نماز جنازہ ان کے گھر میں پڑہی آپ آگے تھے ان کے پیچھے ابوطلحہ اور ان کے پیچھے اُتم سلیم صف بنا کر کھڑی اوجز المسالک شرح موطا امام مالک صفحه ۴۶۱/۲) تھیں۔ترجمہ : یعنی آنحضرت ﷺ کی نماز جنازہ عورتوں نے بھی پڑھی۔ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ذکر وفاته ودفنہ علیہ صفحہ ۱۱۷) تا ہم اس جواز کے باوجود یہ بات مسلّم ہے کہ عورتوں کے لئے خاص طور پر جنازہ کے ساتھ نکلنا اور جنازہ کی نماز میں اہتمام کے ساتھ شامل ہو نا پسند نہیں کیا گیا۔۳۶۔مسجد میں میت رکھ کر نماز جنازہ ادا کرنا عام علماء کا مسلک یہ ہے کہ جنازہ کی نماز مسجد سے باہر ہو یعنی میت اور نماز جنازہ پڑہنے والے دونوں مسجد سے باہر ہوں لیکن ضرورت یا مجبوری ہوتو مسجد کے اندر