سفر آخرت — Page 33
33 ترجمہ : یعنی فقہ کے مشہور عالم حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد جنبل اور اکثر بزگان سلف جنازہ غائب پڑھنے کے قائل تھے مشہور محدث ابن حزم کہتے ہیں کہ کسی صحابی کے متعلق یہ نہیں آتا کہ اس نے جنازہ غائب سے منع کیا ہو امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ نماز جنازہ تو ایک دُعا ہے پھر غائب میت کے لئے یہ دُعا کیوں جائز نیل الاوطار الصلاة على الغائب بالنية وعلى القبر الى شهر صفحه ۴۹/۴) نہیں۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا:۔جو جنازے میں شامل نہ ہو سکیں وہ اپنے طور پر دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھیں“۔۳۴۔نماز جنازہ کا تکرار ( بدر ۹ ارمنی نے ۱۹۰ ء ) ایک میت کی کئی بار نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے اور اس کا جواز مندرجہ ذیل روایات سے ثابت ہے۔(1) أَنَّهُ عَنِ اللهِ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أَحَدٍ عَشْرَةً وَفِي كُلِّ عَشْرَةً حَمْزَة حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ ترجمہ : یقیناً حضور علیا اللہ نے احد کے شہدا کا دس دس کا جنازہ پڑھا اور ہر دفعہ حضرت حمزہ کو شامل کیا اس طرح حضور ﷺ نے حضرت حمزہ کا جنازہ 70 دفعہ پڑھا۔نیل الاوطار ترک الصلوة على الشهيد صفحه ۴۳/۴) (۲) حضرت امام اعظم کی چھ بار نماز جنازہ پڑھی گئی۔(سیرت آئمہ اربعه صفحه ۶۳) ۳۵۔نماز جنازہ حاضر یا غیر حاضر میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی شمولیت نماز جنازہ میں عورتوں کی شمولیت کے اہتمام کو پسند نہیں کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے زمانے میں اور پھر اس زمانہ کے حکم وعدل کے عہد میں