سفر آخرت — Page 35
35 بھی نماز جنازہ ہو سکتی ہے میت کو بلا اشد مجبوری مسجد کے اندر نہیں رکھنا چاہئے بلکہ صورت یہ ہو کہ امام اور مقتدی مسجد کے اندر صف باندھے ہوں اور میت مسجد سے باہر امام کی نظر کے سامنے ہو اس طریق عمل کے جواز کے لئے سند موجود ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ترجمہ : (۱) یعنی حضرت سعد بن وقاص کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ معتکف تھیں اس لئے انھوں نے کہلا بھیجا کہ میت مسجد میں لائی جائے تا کہ وہ بھی جنازہ میں شامل ہو سکیں بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا آنحضرت ﷺ نے بیضاء کے دو بیٹوں کا جنازہ (غالباً اعتکاف کی وجہ سے یا بارش کے پیش نظر ) مسجد میں پڑھا تھا۔(مسلم کتاب الجنائز باب الصلوة على الجنازه صفحه ۲/ ۳۸۵) (۲) حضرت ابو بکر و عمر کی نعش مبارک مسجد نبوی میں منبر اور روضہ کے درمیان رکھ کر نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :۔عمر فاروق اعظم از محمد حسین ہیکل اُردو تر جمه صفحه ۷۳۰ ) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدُ اللَّهِ بِن عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى عَلَىٰ عُمَرَ بْنَ الْخَطَابِ فِي الْمَسْجِدِ (موطا امام مالک باب الصلواۃ علی الجنائز في المسجد صفحه ۵۰ و نصب الرايه صفحه ۲۷۶) شكُرِهَتْ فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ إِنْ كَانَ الْمَيِّتُ فِيْهِ وَإِنْ كَانَتْ خَارِجَةً لَا تَكْرَهُ عِنْدَ الْمَشَائِخ یعنی مسجد میں میت رکھ کر جنازہ پڑھنا بعض علماء کے نزدیک مکروہ اور