سفر آخرت

by Other Authors

Page 32 of 84

سفر آخرت — Page 32

32 32 ۳۳۔جنازہ غائب آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے نجاشی شاہ حبشہ ( جو مسلمان ہو چکے تھے) کی نماز جنازہ پڑھی تھی جبکہ نجاشی کی لاش ظاہری لحاظ سے عام دستور کے مطابق آپ کے سامنے نہ تھی چنانچہ روایت ہے:۔( ترجمہ ) حضور نے اپنے صحابہ کو نجاشی کی وفات کی خبر سنائی پھر فرمایا اس کے لئے بخشش کی دعا کرو پھر آپ اپنے صحابہ کے ساتھ جنازہ گاہ میں آئے اور کھڑے ہو کر اس طرح نماز پڑھائی جس طرح (سامنے پڑے ہوئے ) جنازے کی نماز پڑھائی جاتی ہے۔(مسند احمد صفحه ۲/ ۵۲۹) ترندی نے بھی اس مضمون کی روایت کی ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ أَخَاكَمُ النَّجَاشِي قَدَمَات فَقُوْمُوا فَصَلُّو اعَلَيْهِ ایک اور روایت: (ترمذی ۱۲۳/۱) یعنی حضور یا ہر تھے کہ اہم سعد وفات پا گئیں جب ایک ماہ کے بعد آپ تشریف لائے اور آپ کو وفات کا علم ہوا تو آپ نے اُن کی نماز جنازہ پڑہائی۔( ترمذی باب الصلوۃ صفحہ ۱۲۳/۱) مجموعہ احادیث کی مشہور کتاب کشف الغمہ میں ہے۔كَانَ عَهِ اللهِ يُصَلِّي عَلَى الْغَائِبِ عَنِ الْبَلَدِ (کشف الغمه ۲۹۲/۱) آنحضور ﷺ اس شخص کا جنازہ پڑھتے جو مدینہ سے دور کسی دوسری جگہ فوت ہوتا۔غرض اس مضمون کی احادیث صحاح ستہ میں بکثرت آئی ہیں اسی بنا پر صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں۔