سفر آخرت — Page 24
24 میں رکوع اور سجدہ نہ ہونے کی ہے کیونکہ میت کے سامنے پڑے ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دھوکا لگ سکتا ہے کہ یہ رکوع اور سجدہ اس میت کو کیا جا رہا ہے اور ایسی لاش جو کسی بزرگ کی ہو اس کا جنازہ پڑھتے ہوئے کئی کمزور طبائع خود بھی خیال میں مبتلا ہو سکتی ہیں پس نمازہ جنازہ سے رکوع اور سجدہ کو اڑادیا گیا تا شرک کا قلع قمع ہو۔اس نماز کے چار حصے ہوتے ہیں امام قبلہ رو کھڑا ہو کر بلند آواز سے سینہ پر ہاتھ باندھ کر تکبیر کہ کر اس نماز کو شروع کرتا ہے اس نماز سے پہلے اقامت نہیں کہی جاتی پہلی تکبیر کے بعد منہ میں آہستہ آہستہ آواز سے تکبیر امام اور مقتدی اپنے اپنے طور پر سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں اس کے بعد امام پھر بلند آواز سے تکبیر کہتا ہے اور بغیر رکوع میں جانے کے اسی طرح کھڑے ہوئے منہ میں آہستہ آہستہ آواز میں دُرود پڑھتا ہے اور مقتدی بھی اپنے اپنے طور پر ایسا ہی کرتے ہیں اسکے بعد امام پھر تکبیر کہتا ہے اور اسی طرح کھڑے کھڑے میت کی بخشش کے لئے اگر وہ بالغ ہو دعا کرتا ہے اسی طرح دوسرے مسلمان مردوں، عورتوں، بڑوں اور چھوٹوں سب کے لئے عموماً اور میت کے پسماندگان کے لئے خصوصاً دعا کرتا ہے اور مقتدی بھی یہی کام کرتے ہیں میت نا بالغ ہو تو اس کے ماں باپ کے صبر اور نعم البدل کے لئے دعا کی جاتی ہے اور اس امر کے لئے کہ مرنے والے کو خدا تعالیٰ اس کے رشتہ داروں کے لئے اگلے جہان میں رحمت اور بخشش کا ذریعہ بنا دے بعض مقررہ دعاؤں کے علاوہ اپنے طور پر اپنی زبان میں بھی دُعا کی جاسکتی ہے اور کی جاتی ہے اس کے بعد امام پھر بلند آواز سے تکبیر کہتا ہے اور تھوڑے سے وقفے کے بعد سلام پھیر کر نماز کو ختم کر دیتا ہے۔۲۰۔نماز جنازہ کی مسنون دُعائیں ا۔( تفسیر کبیر جلد اول صفحه ۱۱۵) اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيْنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَ صَغِيْرِنَا