سفر آخرت

by Other Authors

Page 15 of 84

سفر آخرت — Page 15

15 حضرت مسیح موعود نے فرمایا موت کو ہمیشہ یادرکھو زندگی چند روزہ ہے اس پر نازاں نہ ہونا چاہئے جو راستی پر ہو اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا ہو تو خدا اُس کے ساتھ ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ موت کا کوئی اعتبار نہیں اور کوئی شخص اپنی نسبت یقینی طور پر نہیں کہ سکتا کہ میری زندگی کس قدر ہے اور کتنے دن کی باقی ہے۔۵۔بعث بعد الموت حضرت مسیح موعود نے فرمایا " مرنے کے بعد ایک بعث ہوتا ہے جیسے کہ حدیث میں ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ خدا سے بہت ڈرتا تھا لیکن خدا کی قدرتوں کا اُسے علم نہ تھا تو اُس نے وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری خاک کو دریا میں ڈال دینا تا کہ اجزا ایسے منتشر ہو جا ئیں کہ پھر جمع نہ ہو سکیں جب وہ مر گیا تو اُس کے ورثا نے ایسا ہی کیا لیکن خدا نے اسے عالم برزخ میں پھر زندہ کر دیا اور پوچھا کہ کیا تو اس بات کو نہ جانتا تھا کہ ہم تیرے اجزا کو ہر ایک مقام سے جمع کر سکتے ہیں اور تجھے ہماری قدرتوں کا علم نہ تھا اس نے بیان کیا کیونکہ مجھے اپنے گناہوں کی سزا کا خوف تھا اس لئے میں نے یہ تجویز کی تھی آخر اس خوف کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اُسے بخش دیا تو یہ بھی ایک قسم کی بعث ہے جو قبل قیامت ہوتی ہے مرنے کے بعد ایک ایسی حالت میں بھی انسان پڑتا ہے کہ اسے اپنے وجود کی خبر نہیں ہوتی یہ ایک ٹوم کی قسم ہوتی ہے۔مولوی عبد اللطیف صاحب نے جو شہادت سے اول یہ کہا تھا کہ چھ دن کے بعد میں زندہ ہو جاؤں گا اس کے معنی بھی یہ ہو سکتے ہیں کہ چھ دن کے بعد میری بعث ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۴۸۳) ہوگی یہ ہمارا ایمان ہے“۔۶۔دنیا کی تلخیاں اور بے ثباتی ۱/۱۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو حضرت مسیح موعود نے فرمایا انسان اس دنیا میں آرام لب کرتا ہے حالانکہ اس میں بڑی بڑی تلخیاں ہیں خویش واقارب کو ترک کرنا