سفر آخرت — Page 16
16 دوستوں سے جدا ہونا ہر ایک محبوب سے کنارہ کشی کرنا البتہ آرام کی صورت میں یہی ہے کہ خدا تعالٰی سے دل لگایا جائے انسان ایک لحظہ بھی خوشی کرتا ہے تو دوسرے لحظہ میں اسے رنج ہوتا ہے لیکن اگر رنج نہ ہوتو خوشی کا مزہ نہیں آتا جیسے کہ پانی کا مزہ اسی وقت آتا ہے جبکہ پیاس کا درد محسوس ہو اس لئے درد مقدم ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۹ صفحه ۳۰۶ مورخه ۱۹ اکتوبر ۱۹۰۳ء) ے۔دنیا فنا کا مقام ہے دنیا فنا کا مقام ہے اگر ایک مرجاتا ہے تو دوسرے نے کون سا ذمہ لیا ہے کہ وہ نہ مرے گا دنیا کی وضع ایسی ہی ہے کہ آخر قضا وقد ر کو ماننا ہی پڑتا ہے دنیا ایک سرائے ہے اگر اس میں آتے ہی جاویں اور نہ نکلیں تو کیسے گزارہ ہو۔انبیاء کے وجود سے زیادہ عزیز کوئی دوسرا وجود قدر کے لائق نہیں لیکن آخر اُن کو بھی جانا پڑا ہے موت کے وقت انسان کو دہشت ہوتی ہے مگر جب مجبور ا وقت قریب آتا ہے تو اسے قضا و قدر پر راضی ہونا پڑتا ہے اور نیک لوگوں کے دلوں سے تعلقات دنیا وی خود اللہ تعالیٰ تو ڑ دیتا ہے کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔البدر جلد ۳ نمبر ۴ صفحه ۶ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ء)۔موت تبدیلی مکان ہے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کر نا کوئی خرج یا دُکھ کی بات نہیں جس کو ہم کہتے ہیں مر گیا وہ دوسرے جہاں میں چلا جاتا ہے اور وہ جہاں نیک آدمیوں کے لئے بہت عمدہ ہے خدا کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اس نے دو گھر بنائے ہیں ادھر سے اُٹھا کر اُدھر آباد کر دیتا ہے۔صفحه ۱۹۳ از کر حبیب حضرت مفتی محمد صادق صاحب ) -۹ موت ایک مرکب ہے جو دوست کو دوست کے پاس پہنچا دیتا ہے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی فرماتے ہیں کہ حضور ایک وفعہ بیمار