سفر یورپ 1924ء — Page 74
۷۴ دن کی بحث میں حضرت صاحب نے ایک مولوی صاحب کو بطور حجت ملزمہ کہا بھی کہ لاؤ وہ منارہ بیضا ہے کہاں؟ ر کی صبح کو حضور نے نماز صبح اسی ہوٹل میں دونوں خدام ہمرکاب کے ساتھ پڑھی۔سلام پھیرا تو منارہ مسجد کی طرف نظر پڑی جو بیضا تھا اور حضور اس کے مشرقی جانب سنتر ال ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔معا اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالا کہ یہی وہ منارۃ البیضا ہے جس کے متعلق وارد ہے کہ بیح عند منارة البيضاء نازل ہوگا سو حضرت مسیح موعود کے خلیفہ،حضور کے لختِ جگر اور حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود کے نظیر کا اس مقام پر نزول گویا خود حضرت مسیح موعود ہی کا نزول تھا اور یہی اس حدیث کے معنے ہیں جو واقعات کے مطابق ہوئے اور یوں وہ حدیث نبوی ہے پوری ہوئی اور جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔طرفہ یہ کہ اس نماز میں حضرت اقدس کے ساتھ دو ہی خادم شریک تھے یعنی مکر می ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور خان صاحب ذوالفقار علی صاحب۔مسجد امویہ کے صحن میں سے منارہ شرقی کے اوپر کا حصہ صرف نظر آتا تھا۔حضور کے ارشاد پر میں مکان ( ہوٹل ) سے کیمرہ لے کر مسجد میں پھر حاضر ہوا اور حضرت میاں صاحب عالی مقام نے اس منارہ کا فوٹو مسجد کے شمالی جانب کے ورانڈہ میں کھڑے ہو کر لیا اور بعد میں ایک فوٹو سیدنا حضرت اقدس کا مع خدام اس مسجد امویہ کے صحن میں ایک قطار میں کھڑے کر کے لیا گیا جس کے بعد حضرت اقدس وہاں سے مع خدام واپس مکان پر تشریف لائے اور موٹر کے ذریعہ سے پھر سارے علاقہ شام کے گورنر کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے جس کا وقت گیارہ بجے کے بعد مقرر تھا۔کل جس گورنر کی ملاقات کا ذکر تھا وہ صاحب صرف ضلع دمشق کے گورنر تھے اور یہ صاحب تمام شام کے گورنر ہیں۔ان کا نام کبھی بیگ ہے۔عرب نسل کے مسلمان ہیں اور بڑے سمجھدار اور ز کی آدمی ہیں۔سلسلہ کا بھی ذکر ان سے حضرت اقدس نے کیا۔ان سے یہ بھی ذکر آیا کہ ہم لوگ یہاں مبشرین بھیجنا چاہتے ہیں آپ کو ان کے متعلق کوئی اعتراض تو نہیں یا قانونا کوئی روک تو نہیں؟ اور اگر کوئی روک نہیں تو کیا آپ ہماری کچھ مدد کر سکیں گے صرف اخلاقی مدد۔حضور کے تشریف لے جانے کے وقت اس کے پاس چند علماء اور رؤسا بھی موجود تھے۔بعض نے ہماری مخالفت کی اور کہا کہ ان لوگوں کو یہاں داخل نہ ہونے دینا چاہئیے اور بہت کچھ شور