سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 73 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 73

۷۳ مشرقی بلکہ رنگ دا ر اور سرخی مائل ہیں۔منارہ بیضا : منارہ بیضا صرف وہی منارہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت تامہ اور حکمت کا ملہ کے ماتحت سیدنا حضرت خلیفۃ المہدی والمسیح کو ان دنوں ٹھہرایا ہے اور یقیناً یہی بات ہے کہ اس ہوٹل سنترال میں اللہ تعالیٰ نے ہی قیام کے لئے سامان کئے جس کے بالکل ملحق ( درمیان میں صرف ایک بازار ہے ) جانب غرب ایک مسجد کا مینار ہے اور وہ سفید ہے۔حضور کا منشا تھا اور اس منشا کے ادا کرنے کی غرض سے شہر کے قریباً تمام ہی حصص کو ٹو لا گیا اور کوشش کی گئی کہ کسی طرح سے حضور کا منشا پورا ہو اور وہ منشا یہ تھا کہ کسی معزز اور آباد حصہ شہر میں - بہت شریفانہ قیام پر کوئی جائے قیام مل جائے۔خدو یو یہ ہوٹل میں سب سے پہلے حضور کو لایا گیا مگر وہاں جگہ نہ تھی اور ہزار کوشش کی مگر جگہ نہ ہی ملی۔رات کو حضور نے وکٹوریہ ہوٹل میں گزاری اور وہ بھی عارضی طور پر۔صبح کو تمام خادم ہوٹل یا مکان کی تلاش میں نکلے بہت کوشش کی مگر کوئی جگہ نہ ملی۔سنتر ال ہوٹل میں بھی گئے مگر صرف ایک کمرہ تھا جس میں تین چار پائیاں تھیں اور وہ حضور کے مناسب حال نہ تھا۔علیحدگی نہ تھی۔آخر جب کوئی صورت نہ بنی تو اس خیال سے کہ صرف ایک دن گزارنے کے لئے یہاں ٹھہر جائیں حضور ٹھہر گئے۔اُمید یہ تھی کہ خدیو یہ ہوٹل جو نسبتا زیادہ صاف ہے اس میں جگہ مل جاوے گی جیسا کہ اس کے مینجر نے وعدہ بھی کیا تھا مگر کوئی جگہ خالی نہ ہوسکی اور معلوم ہوا کہ تمام ہوٹل بھر پور ہیں اور مسافر زیادہ آ رہے ہیں۔آخر مجبوراً اسی سنتر ال ہوٹل کو ہی اختیار کرنا پڑا جس میں آخر فصل کی کوشش سے ایک الگ کمرہ حضرت اقدس کے واسطے بھی مل گیا۔ایک حصہ قافلہ کا اسی میں یعنی صرف ۳ بزرگ خادم اور حضرت صاحب اور قافلہ کا دوسرا حصہ دار السرور ہوٹل میں۔یہ جدائی و تفریق حضور کو ہرگز پسند نہ تھی مگر مجبوراً ایسا ہی کرنا پڑا اور اس وقت کسی کو بھی اس کا خیال نہ تھا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔مولوی لوگ آنے لگے۔مباحثات کا بازار گرم ہوا۔جواب وسوال کا سلسلہ جاری ہوا۔سید نا حضرت اقدس نے لوگوں سے پوچھا کہ منارۃ البیضا مسجد جامع امویہ میں کوئی ہے بھی یا کہ نہیں ؟ تو انہیں اقرار کرنا پڑا کہ کوئی منارہ منارہ بیضا کہلانے والا وہاں موجود نہیں ہے چنانچہ ایک