سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 75 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 75

۷۵ مچایا مگر ایک صاحب جو ایک بڑے جلیل القدر عہدے پر مامور ہیں نام ان کا کل معلوم کر کے لکھوں گا انشاء اللہ اور وہ سنترال ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں، آستینیں چڑھا کر کھڑے ہو گئے اور علماء مخالف کو مخاطب کر کے بڑے جوش سے بولے کہ تم لوگ عیسائیوں اور بابیوں کو تو آنے دو اور ان کا زہر تو ملک میں پھیلنے دو مگر نہ آنے دو تو ایک ایسی جماعت کو جو جان اور مال سے خدمت اسلام کی غرض سے گھروں سے نکلی ہے اور کسی سے کچھ نہیں مانگتی اور مفت خدمت دین اسلام کرتی پھرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس بزرگ کی تقریر ایسی جوشیلی اور پُر زور تھی کہ سب مخالفت دب گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔آخر گورنر نے بھی اس کی تائید کی اور کہا کہ اچھا آپ لوگ بتائیں کہ اگر یہ لوگ (احمدی) یہاں آ کر اپنا مدرسہ جاری کر کے اپنے خیالات کی تشہیر کریں تو تم روک سکتے ہو؟ نصرانی مدارس اور اخبارات کے ذریعہ سے اپنے خیالات پھیلا جائیں تو پرواہ نہ کرو مگر روک پیدا کر و تو ایسے لوگوں کے لئے جو خادم دین ہیں۔الغرض گورنر نے حضرت سے عرض کیا کہ آپ بے شک مبلغین اور مبشرین اسلام یہاں بھیجیں ہم ان کی حتی المقدر مدد کریں گے اور اگر لوگ ان پر حملہ بھی کریں گے تو ہم ان کی حفاظت اور مدد کریں گے البتہ اگر لوگوں کا زور اور غلبہ وفتنہ اتنا بڑھ جائے کہ ہماری طاقت سے اس کا دبنا اور رکنا ممکن نہ ہو تو پھر ہم آپ سے کہہ دیں گے کہ آپ اپنا انتظام آپ کر لیں ورنہ ہم ہر طرح سے مدد کے لئے حاضر ہیں وغیرہ وغیرہ۔الغرض گورنر بہادر سے ملاقات اللہ کے فضل سے بہت کامیاب ملاقات ہوگئی۔تبلیغ بھی ہوگئی اور آئندہ کے لئے راستہ بھی کھل گیا۔گفتگو اور ملاقات بہت طویل تھی میں نے خلاصہ عرض کیا ہے۔چھوٹے گورنر صاحب نے حضرت صاحب سے خود ہی لٹریچر مانگا تھا مگر چونکہ لٹریچر ساتھ نہ تھا اور مصر کا بھی ابھی طبع نہ ہوا تھا صرف اسلامی اصول کی فلاسفی عربی ساتھ ہے وہ ایک کتاب اس کو بھیج دی گئی مگر اس نے تحفہ شاہزادہ ویلز کا حال سن کر بہت اشتیاق ظاہر کیا کیونکہ اس نے حضرت اقدس سے حالات تصنیف تحفہ شاہزادہ ویلز سنے تھے جس کی وجہ سے اس کو اس کے مطالعہ کا بہت شوق پیدا ہوا تھا مگر جب سید نا حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ تو انگریزی میں ہے تو بہت افسوس کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ نہیں وہ ضرور بھیج دیں میں اپنی لڑکی کو دوں گا وہ انگریزی جانتی ہے چنا نچہ تحفہ شاہزادہ ویلز بھی دے دیا گیا۔بیک کرشمہ دو کار والی بات ہے۔لڑکی کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک موقع دے