سفر یورپ 1924ء — Page 55
حضور نے شیخ صاحب عرفانی، حافظ صاحب اور چوہدری فتح محمد خان صاحب کو دمشق کے علماء اور رؤسا کے ملنے کا حکم دیا جو عصر کی نماز کے بعد گئے اور ایک افغان سے مل کر دمشق کے بعض علماء اور ا کا بر کے پتے لئے۔الشیخ مولوی بدرالدین مشہور اور پرانے عالم سے بھی ملے اور اور بہت سے علماء کے ایڈریس بھی لائے۔حضور کل شام کو ٹرام کے ذریعہ سیر کے لئے تشریف لے گئے اور دو تین میل تک جا کر پھر واپس آئے۔ٹرام کا ٹکٹ کلکٹر بہت ہی پر لطف آدمی تھا۔اس نے حضور سے عربی میں خوب باتیں کیں اور کئی معلومات اس سے حاصل ہوئے۔ٹرام ان دنوں شہر میں بالکل خالی پھرتی ہے۔اس کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ ٹرام کا کرایہ بڑھا دیا گیا تھا لوگوں نے اس کو بالکل بائیکاٹ کر دیا ہے اور اب ترام شہر میں قریباً قریباً خالی پھرتی ہے۔کبھی کبھی کوئی عورت یا نا واقف اجنبی آدمی بیٹھ جاتے ہیں یا سرکاری آدمی اس کے ذریعہ سے نقل وحرکت کرتے ہیں۔اس نے بتایا کہ کوئی آپ لوگوں کی طرح دھو کا خوردہ انجان ہی آجکل ٹرام پر بیٹھتا ہے ور نہ واقف کا رشہری کوئی نہیں بیٹھتا۔ٹرام کے کرایہ میں اس کو ایک بڑا سکہ دے دیا گیا ہے اس نے سارے کا سارا رکھ لیا اور کہا کہ ہمارا قاعدہ ہے جو ہاتھ آجائے واپس نہیں دیا کرتے۔زیادہ آ گیا تو ہما را اگر کسی نے کم دے دیا تو بھی بھگت لیتے ہیں۔اس نے بتایا کہ ہماری ٹرام کا سکہ ہی الگ ہے جو ہمارے قانون اور مرضی کے مطابق بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔پھلوں کا ذکر کرتے ہوئے خوب منہ بنا بنا کر باتیں کرتا ،ساتھ بولتا اور ساتھ ساتھ اشارات بھی کرتا تھا۔انگور کے متعلق بھی بتایا کہ ابھی خام ہے دس دن کے بعد تیار ہو گا اور بہت ہی لذیذ اور شیریں ہوگا۔انجیر کے متعلق بتایا کہ چھوٹی انجیر بہت ہی اچھی ہوتی ہے۔پھر تھیڑ کا ذکر کرتے ہوئے بہت ہی شوق دلایا کہ ضرور دیکھ لینا۔اگر آپ پسند کریں تو میں ساتھ چلوں گا مگر حضرت نے اس کی تفاصیل پوچھیں تو بتایا کہ اس میں تین عورتیں ہوں گی اور تین مرد ہوں گے۔عورتیں گائیں گی اور مرد بجائیں گے۔گویا کچینیوں کا ناچ بتایا حالانکہ یہی وہ چیز تھی جس کو وہ پہلے کہتا تھا کہ عربی علم ادب کی اعلی ترین واقفیت حاصل کرنا ہو تو تھیٹر میں جائیں۔پھر حضرت نے فرمایا کہ وہاں شراب بھی پیتے ہوں گے تو کہا شوق سے جتنی چاہیں ملے گی۔حضور نے