سفر یورپ 1924ء — Page 54
۵۴ چھت سے مقف ہے اور بہت ہی قیمتی کام اس کی چھت پر کیا گیا ہے۔اس کے نیچے کٹم ہاؤس کا ایک افسر فرانسیسی کھڑا تھا اس سے بات چیت کی گئی اور اس طرح سامان دیکھے بغیر ہی اس نے اجازت دے دی۔سامان گاڑیوں میں لا دا گیا حضور نے سب خدام کوٹیشن کے پورچ کے چبوترہ پر جمع کر کے داخلہ شہر کی دعائیں کیں اور پھر گھوڑا گاڑیوں کے ذریعہ سے حضور شہر کے ایک اچھے ہوٹل خد یو یہ نامی میں تشریف لائے۔سامان اُتارا گیا اور کمرے دیکھنے کی کوشش کی گئی مگر معلوم ہوا کہ گنجائش نہیں ہے۔آخر حضور تو وکٹوریہ ہوٹل میں تشریف لے گئے مع خان صاحب ، صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ اور ڈاکٹر صاحب کے اور باقی خدام خدیویہ کے ایک کمرہ میں فرش زمین پر لیٹ رہے جس کے لئے ہمیں فی کس نصف مجیدی یعنی ۱۲ ر فی کس کے قریب ادا کرنا پڑا۔۵ / اگست ۱۹۲۴ء : ۵/اگست کی صبح کو حضور وکٹوریہ ہوٹل سے واپس تشریف لے آئے کیونکہ وکٹوریہ میں بھی کوئی جگہ خالی نہ تھی رات جو جگہ مل گئی تھی وہ صرف رات ہی کے واسطے تھی اور صبح ۱۰ بجے وہاں بھی اور مسافر آنے والے تھے جن کے لئے وہ سیٹیں ریز رو تھیں۔لہذا حضور خد یو یہ میں تشریف لے آئے اور خدام کو جمع کر کے کسی اچھے ہوٹل کی تلاش کا حکم دیا۔باوجود بڑی جد و جہد کے کوئی اچھی جگہ نہ ملی بمشکل سنترال ہوٹل میں صرف ایک کمرہ تین سیٹ کا ملا - پھر خان صاحب کو فضل کے پاس بھیجا گیا جس سے بات چیت کے نتیجہ میں اس نے اپنا آدمی سنتر ال ہوٹل میں بھیجا تب جا کر ایک چھوٹا کمرہ حضرت اقدس کے لئے الگ ہمیں دستیاب ہوا۔ہوٹل صاف اور اچھا ہے۔تیسری منزل پر حضور فروکش ہیں۔حضور کے ساتھ ہی جناب خان صاحب اور ڈاکٹر صاحب کا کمرہ ہے مگر پاخانہ ( بیت الخلا ) بہت ہی گندہ اور بد بودار ہے۔بعد میں صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب سلمہ رتبہ کے واسطے بھی ذرا ہٹ کر الگ ایک چھوٹے کمرے کا انتظام ہو گیا فالحمد للہ۔دوسرے دوستوں کے لئے باوجود کوشش کے کوئی اچھی جگہ نہ ملی آخر اسی بازار میں خدیو یہ اور سنترال ہوٹل کے متصل ہی ایک ہوٹل دار السرور میں 9 سیٹ مل گئیں جو ایک معمولی اور سستا ہوٹل ہے۔پون مجیدی فی کس کرایہ پر فیصلہ ہوا جو مجبور آلینا پڑا۔