سفر یورپ 1924ء — Page 56
۵۶ ان باتوں کے سننے پر فرمایا کہ ان لوگوں کی غیرت و حمیت اور دینی جس ہی مر چکی ہے اگر ہم اس سے کھول کھول کر نہ پوچھتے تو ایک علمی اور ادبی مجلس کے دھوکہ میں ہمیں بھی ایسی بد نام اور گندی مجلس میں لے جاتا۔ٹرام واپس اپنے سٹیشن پر پہنچی۔حضور نے وہاں سے دو موٹریں کرایہ پر لیں اور سوار ہو کر اندرون شہر کی سیر کا ارادہ فرمایا اور فرمایا کہ شہر کے مشرقی جانب سے شہر میں داخل ہوں۔خان صاحب ساتھ نہ تھے ان کو لو کندہ سنترال سے جہاں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے تھے لینے آئے تا کہ قافلہ پورا ہو جائے۔وہ دیر سے آئے۔موٹر کو ڈرائیور چلانے لگا تو موٹر چلتی ہی نہ تھی دیر تک کھڑے رہے۔موٹر والوں نے ہزار کوشش کی مگر موٹر نہ چلی۔لوگوں کا ایک جمگھٹا موٹر کے گرد جمع ہو گیا جن میں اچھے سمجھدار لوگ اور سنجیدہ آدمی بھی تھے۔تنگ آ کر موٹر کو دھکیلنا شروع کیا اور واپس ڈھلان کی طرف دوڑایا تا کہ اس طرح شاید سٹارٹ ہو جائے مگر اڈہ تک دوڑائے چلے گئے۔سٹارٹ نہ ہوئی۔آخر حضور اس گاڑی سے اُتر کر دوسری گاڑی میں تشریف لے آئے اور پہلی گاڑی خالی کر دی۔دوسری گاڑی کرایہ کے لئے منگانے کی کوشش کی مگر وہ کرایہ دگنا ما نگتے تھے۔اس فکر میں قریب تھا کہ کسی دوسری موٹر میں سوار ہو جاتے کہ وہ پہلی حضرت اقدس والی موٹر سٹارٹ ہوگئی اور ہم لوگ اس میں بیٹھ کر حضرت کے ہمرکاب شہر کے اندرونی حصہ کی سیر کو روانہ ہوئے۔شہر کے شرقی جانب محلۃ الیہود کی جانب شہر سے باہر نکل گئے اور پھر شہر میں داخل ہوئے۔محلۃ الیہود کو عبور کیا محلہ النصاری آیا۔اس کو بھی عبور کرتے تھے کہ مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے کہا دمشق کے شہر کو سوتے سوتے ہی فتح کر لیں۔اس کلمہ کے دو چار قدم بعد ہی ہماری موٹر کا پہیہ نکل گیا اور موٹر زمین پر لیٹ گئی۔حضرت صاحب کی موٹر بھی ٹھہر گئی۔خان صاحب کو حضرت صاحب کی موٹر میں بٹھا دیا گیا اور حضور شہر کے گرد گھومتے ہوئے بذریعہ موٹر مکان پر پہنچے۔ہمیں حکم دیا کہ گھوڑا گاڑی یا کوئی اور سواری ملے تو لے کر مکان پر آ جائیں جو ۲ میل کے قریب دُور تھا مگر ہم لوگوں کو سواری اس وقت نہ ملی پیدل ہی مکان پر آن حاضر ہوئے۔مولوی عبد الرحیم صاحب درد، ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور قادیانی ہم تینوں تھے۔