سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 41 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 41

۴۱ کے شروع کرنے اور چل جانے کی زیادہ تر امید کی جاتی ہے چنانچہ حضور نے ایک تاراسی مضمون کی قادیان روانہ بھی فرما دی ہے کہ فضا حالات کی بنا پر امید افزا اور تسلی بخش ہے۔ایک پیاسی اور مستعد روح: سید وفی ابوالفرائم کی ملاقات اور اس کا حضور کے کلام سے وجد میں آجانا اور یا سیدی اور امامنا اور صدَقْتَ وَ آمنتُ کر کے اظہا را خلاص کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔وہ بہت بڑا صاحب اثر عالم باعمل مانا گیا ہے حتی کہ بادشاہ وقت تک کے مقابلہ میں کھڑا ہوا ہے۔پھر صرف تنہائی اور علیحدگی میں اگر وہ ایسا اظہار کرتا تو بھی کچھ شبہ اور شک کی بات باقی تھی مگر اس نے تو علی رؤس الا شہاد اپنے خاص شاگردوں اور مریدوں میں جن کی تعدا د ٹھیک 9 کس تھی اور واقع میں وہ بڑے علماء بھی تھے۔بعض انگریزی خوان تھے کیونکہ ان میں سے ایک نے خان صاحب سے انگریزی میں باتیں کر کے ان کا ترجمہ اس کا سنایا۔ان سب کے سامنے اس نے ایمان لانے کا اظہار کیا اور کہا کہ میں حضرت امامنا پر ایمان لاتا ہوں تم گواہ رہو۔تم اگر ڈرو اور نہ مانو تو تمہاری مرضی ورنہ میں نے مانا اور قبول کیا کہ یہ سب کلام حق ہے۔اس کلام میں کھول کر سنا دیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود کا مذہب ہے کہ مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں وغیرہ وغیرہ اور دوسرے تمام خصوصی عقائد بھی پہونچا دیئے تھے۔قاہرہ سے واپسی : الغرض ہمارا قافلہ سوا چھ بجے قاہرہ سے واپس پورٹ سعید کی طرف کوروانہ ہوا اور قطرہ کے سٹیشن پر ساڑھے تو بجے شام کے پہنچا جہاں گاڑی بدل کے سویز کے دوسرے پار سرز مین فلسطین پرسید نا حضرت خلیفہ امسیح نے مع خدام قدم رکھا اور دعائیں کیں۔قنطرہ سے سامان تھا مس تک کے آدمیوں نے ہم سے لے لیا اور کسٹم ہاؤس کو لے گئے جہاں بعض حصے سامان کے کھول کر دکھانے پڑے۔صرف ڈیڑھ گھنٹہ وقت تھا جس میں ایک گاڑی کو چھوڑ کر دوسری میں جانا جن کے درمیان نہر سویز پڑتی ہے اور وہ سر کاری کشتی کے ذریعہ سے عبور کی جاتی ہے۔سامان کشٹم ہاؤس میں دکھانا، پاس حاصل کرنا جو ایک چٹ سامان پر لگا کر ملتا ہے دوسری طرف گاڑی پر جانے کے لئے لمبا چوڑا راستہ طے کر کے بالکل بھر پور گاڑی میں سوار ہونا بہت ہی مشکل کام تھے جو کک کے آدمیوں کے ذریعہ بآسانی طے ہو گئے۔گاڑی ۲۴ گھنٹے میں صرف ایک