سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 42 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 42

۴۲ چلتی ہے جو قنطرہ سے لد کو لے جاتی ہے۔لد ایک سٹیشن ہے فلسطین میں جہاں گاڑی ساڑھے چھ بجے کے قریب پہنچی اور وہاں پر پھر گاڑی تبدیل کرنی پڑی۔لد سے ایک لائن حیفا کو چلی جاتی ہے اور حیفا سے آگے بڑھ کر عکہ اور عکہ سے دمشق کو جاتی ہے۔لد سے بدل کر ہماری گاڑی پہاڑی راستوں سے ہوتی ہوئی ساڑھے نو بجے پہاڑیوں کی چوٹی پر ایک وسیع میدان میں پہنچی جہاں شہر یروشلم آباد ہے۔( بیت المقدس ) جس کو اس علاقہ میں القدس کہتے ہیں اور ٹکٹ پر بھی القدس ہی لکھا ہوتا ہے اور یہی نام اس علاقہ میں معروف ہے۔کرایہ ریل از پورٹ سعید تا قاہرہ (مصر) ۴۳ قرش یعنی قریباً سات روپیہ تھرڈ کلاس خرچ ہوا تھا اور مصر سے ( قاہرہ سے ) القدس تک ایک گنی (جو ولایتی گنی سے کسی قدر بڑی ہوتی ہے ) اور ساڑھے اکیالیس قرش جو قریباً ہوتے ہیں خرچ ہوتا ہے ( تھرڈ کلاس ) سیکنڈ اور تھرڈ کلاس میں عموماً بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔فرسٹ کلاس میں بہت کم پسنجر ہوتے ہیں۔رات کو سونے کے واسطے جگہ ریزرو کرانے کے واسطے سلیپنگ کار (Sleeping Car) ساتھ ہوتی ہے جس کے لئے درجہ اول کے لئے ایک گنی اور ۲۰ پیا سٹر زیادہ دینے ٹھہر۔کا رصرف اول درجہ کے لئے ہوتی ہے۔بیت المقدس : القدس کی پہاڑیاں بالکل تنگی اور خشک ہیں بعض جگہ جو باغات کثرت سے نظر آتے ہیں وہ قدرتی اور خودرو نہیں بلکہ لوگوں نے خاص محنت سے لگائے ہوئے ہیں۔انگور ،سیب اور تربوز عام اور کثرت سے پائے جاتے ہیں۔گاڑی سٹیشن پر پہنچتے ہی ایک مجاور خوش وضع مولوی قطع جبہ پوش جس کو کسی طرح سے حضور کا نام پہنچ گیا تھا ( حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ) ایک کاغذ پر لکھا ہوا لئے پوچھتا پھرتا تھا۔آخر تلاش کر کے ملا اور عرض معروض کرتا رہا کہ حضور میرے غریب خانہ پر ٹھہریں میں خدمت کرنا چاہتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔مگر حضور نے کوئی فیصلہ نہیں فرمایا اور کنگ کے آدمیوں کے حوالے سامان کر کے اور اس خادم اور میاں رحمد بن صاحب کو سامان کی نگرانی پر چھوڑ کر خود تشریف لے گئے گھوڑا گاڑیوں کے